امت ایک دن عید کیوں نہیں مناتی

Orya-Maqbool-Jan

ہر سال عید کے موقع پر چاند پر جھگڑے کے وقت کبھی کسی نے یہ تصور کیا ہے کہ جو امت صرف چندسکینڈ کے وقفے سے بلکہ بعض اوقات تو براہِ راست میدان ِعرفات سے حج کا خطبہ سنے، لندن، سڈنی یا دبئی میں ہونے والا میچ دیکھ لے،گیارہ ستمبرکو گھنٹوں ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے گرنے کا منظر ایسے دیکھے جیسے وہ ان کے سامنے برپا ہے، لیکن اگرآپ اس امت کے اربابِ اختیارسے لے کر علمائے کرام تک سب سے پوچھیں کہ یہ پوری امت دنیا بھر میں ایک ساتھ چاند کیوں نہیں دیکھ سکتی تو آپ کو بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دینے لگیں گی۔ سب سے پہلی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ زمینی حقائق میں قومی ریاست سب سے بڑی حقیقت ہے اور اس قومی ریاست کی حکومت ہی مسلمانوں کا ایک نظمِ اجتماعی ہوتی ہے اور اس نظم اجتماعی کے تحت ہر ملک کی ایک رویتِ ہلال کمیٹی جس کا حکم ماننا شرعا فرض ہے۔ جنگ عظیم اول کے بعد عالمی طاقتوں نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو جس کمال مہارت کے ساتھ سرحدوں میں تقسیم کیا تھا،آج ان لکیروں کی وہ زمینی حقیقت کائنات کی آفاقی حقیقتوں، الہامی کلام اور رسول اکرم ﷺ کے ارشادات سے بڑی حقیقت بنا دی گئی ہیں۔ طورخم، تفتان اور خنجراب کی لکیروں کے ایک جانب کھڑے پاکستانی اور دوسری جانب کھڑے افغان، ایرانی اور چینی، جن کے سروں پر ایک ہی وسیع آسمان ہے، اور اس آسمان پر چاندسرحدوں کی پرواہ کیے بغیر اپنا سفر مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے، مگر اس آفاتی حقیقت کے باوجود، لکیر کے اسطرف موجود لوگ روزے سے ہوتے ہیں،اور دوسری طرف والے عید منا رہے ہوتے ہیں۔ دنیا کے تقریباً ہر مسلمان ملک میں رویتِ ہلال کمیٹیاں موجود ہیں اور یہ ایسے علمائے کرام پر مشتمل ہیں جو اپنے خطبوں میں یقینا سید الانبیاء ﷺ کی یہ حدیث ضرور سناتے ہوں گے کہ یہ امت ایک جسدِ واحد کی طرح ہے۔ اس بات کا بھی اعلان زور و شور سے کرتے ہوں گے کہ سرورِ دو عالم ﷺ کو ساری انسانیت کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔لیکن یہ تمام علمائے امت اور مذہبی سیاسی رہنما آج تک ایک دن کے لیے بھی اس بات پر متفق نہیں ہو سکے کہ اس دنیا میں بسنے والے تمام مسلمانوں کا ایک ہی چاند ہے جو ایک ہی آسمان پر طلوع ہوتا ہے اور ایک ماہ میں تقریباً 29دن، 12 گھنٹے، 44 منٹ اور 28 سیکنڈ کی گردش مکمل کرتا ہے۔ اس ایک چاند کو اگر ہوائی کے ساحلوں سے لے کر فیجی کے جزیرے تک کہیں بھی دیکھ لیا جائے تو مسلمان بیک وقت روزہ رکھ سکتے اور عید منا سکتے ہیں۔دنیا میں کہیں بھی دو ملکوں کے درمیان 24 گھنٹوں سے زیادہ کا وقفہ نہیں ہے۔ فیجی زمین کے مشرقی کونے میں واقع ہے اور وہاں یکم جنوری کو طلوعِ آفتاب 5:33 اور غروبِ آفتاب 6:46 بجے ہے،اور پھر آپ مغرب کی طرف بڑھیں تو چھ گھنٹے بعد جکارتا، چار گھنٹے بعدمکہّ، ایک گھنٹے بعدقاہرہ، دو گھنٹے بعد لندن اور پانچ گھنٹے بعد نیویارک میں آپ اسی دن یعنی یکم جنوری کی نماز فجر اور نماز مغرب ادا کریں گے۔لیکن اسی یکم جنوری کے آس پاس اگر چاند دیکھ کر عید کرنے کی بات آجائے تو یہ عید تین جنوری تک چلتی رہے گی، جب کہ اس دوران چاند اپنا تین دن کا سفر مکمل کر چکا ہو تا ہے۔ اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ چاند دیکھ کر کسی خاص ملک میں عید منانا شرعی طور پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بنائی ہوئی حدود و قیود کے مطابق نہیں،بلکہ عالمی طاقتوں کی کھینچی ہوئی حدود و قیود اور سرحدوں کے مطابق ہے۔ 1971 سے پہلے اگر چٹاگانگ یا ڈھاکا میں چاند نظر آجاتا تھا تو گوادر اور پشاور والے بھی ان کے ساتھ عید کرتے تھے۔ لیکن آج اگر رویتِ ہلال کمیٹی کے اراکین سے، سوال کریں کہ کیا بنگلہ دیش والے ہمارے ساتھ عید کر سکتے ہیں تو وہ کہیں گے کہ بنگلہ دیش کا مطلع الگ ہے اور ہمارا مطلع الگ۔ روس زمین کے شمال میں واقع ایک وسیع ملک ہے جس میں گیارہ ٹائم زون آتے ہیں۔روس میں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے۔ اس روس کے گیارہ ٹائم زون ہیں جن میں رہنے والے مسلمان ایک ہی دن عید کرتے ہیں۔ چونکہ روس کی ایک عالمی سرحد ہے اس لئے ایسا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں 57اسلامی ممالک بھی ویسے ہی گیارہ ٹائم زون میں واقع ہیں، جو مراکش سے برونائی تک کا علاقہ ہے۔ لیکن یہاں تو اردن اور شام کی سرحدوں پر اور ایران و عراق کی سرحدوں پربھی علیحدہ علیحدہ عیدیں منائی جاتی ہیں۔ اس لیے کہ ان کی 57 عالمی سرحدیں بنا دی گئی ہیں۔اگر یہ روس کی طرح ایک ہی ملک ہوتے تو ایک عید مناتے۔ میں سمجھتا تھا کہ اس پوری امت میں یہ اختلافات شاید پاکستان میں ہی ہیں۔ لیکن 2007 کا رمضان مجھے ایران میں گزارنے کا موقع ملا۔ رات گئے تک پوری ایرانی قوم انتظار کر رہی تھی کہ ابھی رویتِ ہلال کمیٹی اعلان کر دے گی۔ فقہ جعفریہ کے مطابق لوگوں نے’’یومِ شک ’’کا روزہ رکھ لیا، جسے چاند کی اطلاع نہ ملنے پر 12 بجے سے پہلے توڑا جا سکتا ہے۔ گیارہ بجے کے قریب میں کا ر میں سفر کر رہا تھا، ریڈیو لگا ہوا تھا، اس پر رویتِ ہلال کمیٹی کا”قم” سے اعلان ہوا کہ رمضان کا چاند نظر آگیا ہے۔میرے ڈرائیور نے ایرانی مزاح کا ثبوت دیتے ہوئے کہا ’’آغا! ہمراہ آفتاب آمد’’یعنی ”صاحب!آج چاند اور سورج ساتھ ساتھ تشریف لائے ہیں”۔ گزشتہ چودہ سو سال کی تاریخ اس بات پر شاھد ہے کہ اس امت کے تمام مسالک نے چاند کی رویت میں مطلع کا کبھی اختلاف نہیں کیا۔ فقہہ حنفی کی کتابوں ”الہدایہ” او ر ”الدر المختار” میں کہا گیاہے کہ، اہلِ مشرق پر اہلِ مغرب کی رویت دلیل ہے۔ مالکی فقہہ کی کتاب‘‘ھدایتہ المجتہد’’ اور ’’مواہب الجلیل’’بلکہ قاضی ابو اسحاق نے ’’ابن الماحبثون’’ میں یہاں تک کہہ دیا اگر ایک ملک کے لوگوں کے بارے میں معلوم ہو جائے کہ انھوں نے چاند دیکھاہے تو روزے کی قضا واجب ہے۔ یہی مسلک حنبلیوں کے ہاں ’’الاحناف’’اور شافیعوں کے ہاںالمغنی میں درج ہے اور کیوں نہ ہو ان تمام آئمہ کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی سنت موجود تھی جو ان احادیث سے واضح ہے۔’’ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا میں نے چاند دیکھا، آپؐ نے پوچھا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اس کے رسول ہیں۔ اس نے کہا، ہاں، آپؐ نے فرمایا، بلالؓ اعلان کر دو کل روزہ رکھیں (ترمذی، سنن ابنِ داود)’’اس سے زیادہ واضح بات اس حدیث میں ہے۔ ’’لوگ عید کے چاند میں اختلاف کرنے لگے کہ دو اعرابی آئے، انھوں نے اللہ کے رسول ﷺکے روبرو اللہ کو گواہ بنا کر کہا کہ کل رات انھوں نے چاند دیکھا ہے تونبی اکرمﷺ نے حکم دیا کہ روزہ توڑ دیں (ابو داود)’’ان دونوں احادیث میں نہ کہیں فاصلے کا ذکر ہے اور نہ ہی حدود و قیود کا۔ آج اگر مراکش کے ساحل پہ جہاں چاند پہلے طلوع ہوتا ہے،اگر چند مسلمان جو پارسا اور پرہیزگار بھی ہوں، وہ اگر چاند دیکھ لیں اور صرف چند گھنٹے کی فلائٹ لے کر رویتِ ہلال کمیٹی کے سامنے آکر گواہی دیں جواس وقت کراچی میں چھت پر کھڑی دوربین لگا کر چاند دیکھ رہی ہو، تو کیا یہ رویتِ ہلال کمیٹی والے اعلان کر دیں گے کہ کل روزہ رکھو، یا اگر وہ عید کے روز لیٹ ہو جائیں تو اعلان کریں گے کہ مسلمانو! روزہ توڑ دو۔ شایدوہ ایسا کبھی نہ کریں۔ اس لیے کہ ہمارے ہاں زمینی حقائق اور قومی ریاستوں کی حدود اللہ کے رسول کی سنت سے زیادہ محترم اور مقدس بن چکی ہیں۔ ایک چھوٹا سا ٹی وی چینل آسٹریلیا سے امریکا تک ہر چیز براہِ راست دکھانے کا اہتمام کر سکتا ہے۔لیکن اس امت کے 57 اسلامی ممالک دنیا میں صرف چندمقامات پر چاند دیکھنے کے مراکز قائم کر کے پوری امت کو ایک رمضان اور ایک عید کا تحفہ نہیں دے سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں