جس کے خمیر میں دھاندلی ہو!

کیا بائیومیٹرک مشینوں سے حاصل کردہ ووٹوں پر مشتمل ڈیٹا بینک کو چلانے والے آسمانوں سے اتریں گے۔ ایسے فرشتے ہوں گے جن کا زمین کے باسیوں کے ساتھ نہ کوئی تعلق واسطہ ہو گااور نہ ہی ان کے نفع و نقصان میں کوئی حصہ داری۔ وہ کسی ادارے کے ملازم بھی نہیں ہوں گے اور نہ ہی ان کی پرموشن، ترقی، پوسٹنگ ٹرانسفر کسی کے ہاتھ میں ہوگی۔ ان کے بیوی بچے بھی اس دھرتی پر نہیں رہتے ہوں گے اور نہ ہی ان کا کوئی مفاد اس مملکتِ خدادادِ پاکستان سے وابستہ ہوگا۔ وہ خاموشی سے ’’عالمِ بالا‘‘ سے الیکشن کروانے آئیں گے اور انتخابی نتائج کا بذریعہ کمپیوٹر اعلان کر کے چلے جائیں گے۔ اگر ایسا کچھ انتظام ہو جائے تو شاید شفافیت کا خواب پورا ہو جائے۔ ۔لیکن اس نئے الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کے بعد ہم سوچ رہے ہیں کہ موجودہ سیاسی اور انتظامی مشینری کی موجودگی میں دھاندلی کرنا مشکل ہو جائے گا۔ کسی بھی درمیانے درجے کے کمپیوٹر پروگرامنگ کی اہلیت رکھنے والے سے پوچھیئے کہ کسی کمپیوٹر پروگرام کو ڈیزائن کرتے وقت اس کے ایڈمنسٹریٹرکے لئے خفیہ طور پر کیا کچھ کیا جا سکتا ہے اور کیسے اس سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لئے پروگرام میں ہی سافٹ ویئر تیار کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ طریقۂ ووٹنگ میں تو لاتعداد انسانوں کی موجودگی اور تمام تر مینول ووٹوں کی وجہ سے سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہوتا ہے، شفافیت بھی سامنے اور دھاندلی بھی، اتنے انسانوں کی موجودگی کے باوجود الیکشن کمیشن، ریٹرننگ آفیسر اور اسٹبلشمنٹ، الزامات کی زد میں آنے سے نہیں بچ پاتے۔ اندازہ لگایئے ایسی’’ ڈیٹا مشین‘‘ کا جس کے آپریٹنگ سسٹم کو کسی کو بھی نظر نہ آنے والے ہاتھوں سے مرضی کے مطابق کنٹرول کیا جا سکتاہو، وہاں دھاندلی کے کیا کچھ گل کھلائے جا سکتے ہوں گے۔ کمپیوٹر جب مارکیٹ میں آیا تو ایک محاورہ اس کے ساتھ منسلک ہو کر رہ گیا،وہ تھا ’’گاربیج ان گاربیج آؤٹ‘‘یعنی آپ اگر اس میں کوڑا ڈالیں گے تو اس میں سے کوڑا ہی نکلے گا۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی گذشتہ پچاس سالوں کی تاریخ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کمپیوٹر یا الیکٹرانک سسٹم ایک ایسی گاڑی ہے جس کا اپنا کوئی ضابطہ اخلاق ہے اور نہ ہی کوئی اخلاقی کنٹرول سسٹم۔ اس میں اگر ایک فحش فلم کوکسی مذہبی لیکچر کے عنوانات اور عرفِ عام میں “Thumbnail” لگا کر پوسٹ کر دیا جائے تو اس کو بالکل بھی ناگوار محسوس نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں گوار ا یا نا گواری کا تصور ہی نہیں ہے۔ انسانی جھوٹ کو پکڑنے کے لئے ایک زمانے میں نفسیاتی ٹیسٹ ایجاد ہوئے تھے جن میں ایک ٹیسٹ “MMPI” بھی تھا ، جس میں تقریباً پانچ سو سوالات کا جواب ہاں یا نہ میں لیا جاتا اور ان سوالات میں وقفے وقفے سے کچھ سوالات دہرائے جاتے تاکہ اگر جھوٹ بولنے والا پہلے جواب کو بھول چکا ہو تو دوسراجواب مختلف دے گا تو پکڑا جائے گا۔ اس ٹیسٹ کے کچھ عرصے بعد جسم میں جھوٹ بولنے کی وجہ سے آنے والی عارضی تبدیلیوں کی بنیاد پر ایک مشین بھی دریافت ہوئی، جسے ’’پولی گراف‘‘ کہتے ہیں۔ ان دونوں معاملات بھی خدشہ رہتا ہے کہ ایک “MMPI” ٹیسٹ کے نتائج مرتب کرنے والا یا پولی گراف مشین چلانے والاتھوڑی بہت تبدیلی سے نتائج ’’مختلف‘‘ حاصل کر سکتا ہے۔ یہ بھی خطرہ ہے کہ ایک ہوشیار اور عقلمند جھوٹ بولنے والا اپنے آپ پر ایسا قابو رکھے کہ اس کا جھوٹ پکڑا ہی نہ جائے۔ یہ تمہید اس لئے باندھی کہ ہمارے ہاں یہ تصور کر لیا گیا ہے کہ اگر الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم آجائے گا تو ’’دھاندلی‘‘ ختم ہو جائے گی اور صاف و شفاف انتخابات شروع ہو جائیں گے۔ دنیا کی سب سے طاقتور جمہوریت اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ترقی یافتہ قوت ’’امریکہ‘‘، موجودہ الیکشنوں کے بعد ایک ایسے بحران کا شکار ہو چکی ہے جس میں سارے کا سارا الیکٹرانک اور نان الیکٹرانک سسٹم بھی چیلنج ہوتا نظر آرہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ تمام بندوبست کر لیں، ایسی دھاندلی کو نہیں روک سکتے جو منظم طریقے سے کی جاتی ہو۔ دو دن پہلے ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے ایک پورے صفحے کی رپورٹ شائع کی جس کا عنوان تھا “Discrediting the vote began years ago” یعنی ’’ووٹ کی رسوائی کا آغاز سالوں پہلے ہو گیاتھا‘‘۔ رپورٹ میں حیران کن انکشافات کئے گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ’’امریکی الیکشن‘‘ بھی پاکستان کے بدترین دھاندلی زدہ الیکشنوں کی طرح ہی ہوتا ہے۔گذشتہ2016ء کے الیکشنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ الیکٹورل کالج کی وجہ سے جیت گیاتھا، لیکن پاپولر ووٹ ہیلری کلنٹن کے بہت زیادہ تھے، جس سے لوگوں میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ امریکیوںکی اکثریت تو ہیلری کو چاہتی تھی لیکن امریکی انتخابی سسٹم کی وجہ سے ٹرمپ جیت گیا۔ ٹرمپ نے اس تاثر کے خاتمے کے لئے برسرِ اقتدار آتے ہی ’’ووٹرز فراڈ‘‘(Voters Fraudکے نعرے کے ساتھ ایک دو رکنی کمیشن قائم کیا جس کی سربراہی نائب صدر مائک پنس کر رہا تھا۔ کمیشن نے تمام ریاستوں کے ’’الیکٹورل رول‘‘کا جائزہ لیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ووٹر لسٹ میں ایک منظم ’’فراڈ‘‘ کیا گیا ہے اور لاتعداد ایسے لوگوں کے نام ڈالے گئے ہیں جو دراصل وجود ہی نہیں رکھتے تھے۔ آج سے دو سال پہلے جنوری 2019ء میں ٹیکساس کی ریاست جس کے متعلق کمیشن نے الیکشن ڈیٹا بیس کی دوسری کئی ڈیٹا بیس سے موازنے (Matching) کے بعد یہ اعلان کیا کہ ووٹر لسٹ میں 95ہزار افراد ایسے شامل کئے گئے ہیں جو امریکی شہری ہی نہیں ہیں۔ ان میں اکثریت جنوبی امریکہ کے ہسپانوی باشندے شامل تھے۔ کمیشن کی اس رپورٹ کے بعد ٹیکساس کی ریاست نے فوراً ان کے نام ووٹر لسٹ سے نکالنے شروع کر دیئے۔ ٹرمپ نے اس دھاندلی کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کرکے پورے انتخابی نظام کو رسوا کر دیا۔ جن ووٹروں کے نام نکالے گئے تھے ان کی حمایت میں انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں عدالتوں میں چلی گئیں۔ کچھ دیر کے لئے معاملہ رکا اور کمیشن پر انگلیاں اٹھنے لگیں۔ ایسا ہی کچھ دیگر ریاستوں میں بھی دہرایا گیا۔ یہ سب یہاں بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اتنی بڑی طاقت و ٹیکنالوجی والا امریکہ ، الیکشن میں فراڈ کونہ روک سکا،بلکہ محسوس ہوا کہ جدید ترین ’’الیکٹرانک نظام‘‘ تودھاندلی کے بھی جدید ترین طریقے دریافت کرتا ہے۔ دھاندلی کو منظم، خفیہ اور پکڑے جانے سے بچاؤ کی ترکیبیں بھی بتاتا ہے اور صاف بچ بھی نکلتا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ الیکشن کے شفاف اور دھاندلی سے پاک ہونے کے لیئے صرف ایک شرط چاہیئے اوروہ ہے ’’انتظامیہ کا ایماندار اور کسی بھی قسم کی لالچ اور دباؤ سے پاک ہونا ‘‘۔ پاکستان کی تاریخ میں 1970ء کے الیکشن ایسے الیکشن ہیں جن پر کوئی گروہ بھی انگلی نہیں اٹھاتا۔ جیسے ہی ان انتخابات کے نتائج آئے ،اس وقت بھی ہر پارٹی نے انہیں تسلیم کیا تھا اور آج بھی کوئی ان کی شفافیت پر اعتراض نہیں کرتا۔ یہ انتخابات نہ تو فوج اور عدلیہ کی زیرِ نگرانی ہوئے تھے اور نہ ہی جمہوری طور پر کسی کئیر ٹیکر سیٹ اپ نے کروائے تھے۔ جنرل یحیٰ خان نے یہ انتخابات کروائے تھے، جس کیلئے پورا ایک سال انتخابی مہم چلانے کی اجازت دی گئی، پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ اخباروں کے ڈیکلیریشن جاری ہوئے تاکہ آزادیٔ رائے کا اظہار ہو سکے ۔ان انتخابات میں ڈپٹی کمشنروں کو صرف دو لفظوں میں ہدایت کی گئی ’’صاف و شفاف‘‘ الیکشن کرواؤ۔ چونکہ الیکشن کروانے والوں ، اس وقت کی اسٹبلشمنٹ اور سیاسی پارٹیوں کی نیتیں صاف تھیں، معاشرے میں بے ایمانی کا عمل دخل نہیں بڑھا تھا، اس لئے الیکشن صاف و شفاف ہو گئے۔ لیکن اس کے بعد 1977ء میں اگلے الیکشنوں میں اس پودے کو دھاندلی، بے ایمانی اور بددیانتی کا جو گندا پانی ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی پیپلز پارٹی نے دیاتھا، آج 43سال گذرنے کے بعد اس کی آبیاری سے الیکشن، ووٹ اور جمہوری نظام کے خمیرمیں بددیانتی اور فراڈ رچ بس چکے ہیں۔ آج نہ تو اسٹبلشمنٹ کی نیت صاف ہے اور نہ ہی الیکشن لڑنے والے سیاست دان ایماندار ہیں۔ اس سارے الیکشن سسٹم کو الیکٹرانک وؤٹنگ مشین کے ڈبے سے گذار کر دیکھ لو۔۔ گاربیج ان۔۔ گاربیج آؤٹ۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں