ٹرمپ کیسے صدر رہ سکتا ہے

امریکہ اپنی تاریخ کے سب سے بڑے آئینی بحران پر دستک دے چکا ہے۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جس میں ’’مقبول رائے شماری‘‘ یا ’’پاپولر وؤٹنگ‘‘ کا تصور ہی درہم برہم ہوکر رہ جائے گا۔ پاپولر ووٹ کے حساب سے جوبائیڈن کو کامیاب قرار دیا جاچکا ہے، لیکن ٹرمپ کی جانب سے الیکشنوں کو دھاندلی زدہ قرار دینے اور انہیں عدالتی سطح پر چیلنج کرنے کے بعد امریکہ کے تمام آئینی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس الیکشن کو جسقدربھی متنازعہ بنایا جائے گا، اس کا فائدہ صرف اور صرف ڈونلڈ ٹرمپ کو پہنچے گا اور بائیڈن کو کچھ حاصل نہ ہوسکے گا۔ اس وقت امریکہ میں عوامی نمائندوں، ریاستوں کے گورنروں اور ریاستی اسمبلیوں میں جو پارٹی پوزیشن ہے، اس کی اکثریت مکمل طور پر ٹرمپ کے حق میں ہے اور تنازعے کے طول کھینچنے کی صورت میں ریاستوں کا ووٹ ہی حرفِ آخر ہوگا۔ امریکی تاریخ میں ایسا اب تک تین بار ہو چکا ہے۔ پہلی دفعہ 1800ء میں ہوا جب الیکٹورل کالج فیصلہ نہ کر سکا تھا تو’’تھامس جیفرسن‘‘ (Thomas Jefferson) اور دوسری دفعہ 1824ء میں ’’جان ایڈیمز‘‘ (John Adams)کو کانگریس نے صدر منتخب کیا ۔ ان دونوں دفعہ الیکٹورل کالج کو متنازعہ نہیںبنایا گیا تھا بلکہ کوئی بھی امیدوار اکثریت حاصل نہ کر سکا تھا۔ لیکن 1876ء کے الیکشن میں ڈیموکریٹ امیدوار ’’سیموئل ٹلڈن‘‘ (Samuel Tilden)اور ریپبلکن امیدوار ’’رتھ فورڈ ہیز‘‘ (Ruthford Hayes)کے الیکشن میں چار ریاستوں فلوریڈا،جنوبی کیرولینا، لوزیانا اور اوریگون کے ووٹ متنازعہ ہو گئے تھے۔ ان متنازعہ ریاستوں کے 20الیکٹرز ووٹوں کو نکال کر جب گنتی کی گئی تو ٹلڈن (Tildon) کے پاس 184ووٹ تھے اور ہیز (Hayes) کے پاس 165۔ جبکہ جیتنے کے لیئے 185ووٹ درکار تھے۔ صرف ایک ووٹ کی کمی کی وجہ سے معاملہ کانگریس کے پاس چلا گیا اور 165ووٹوں والے روتھ فورڈ ہیز کو صدر منتخب کر لیا گیا۔اس دور میں امریکی معاشرہ ایسا تقسیم نہیں ہوا تھا جیسا گذشتہ چار سالوں میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کر کے رکھ دیا ہے۔ 1876ء میں صرف یہی آئینی بحران تھا جو ایوانوں میں زیرِ بحث تھا، لیکن اس دفعہ تو امریکی قوم ٹرمپ کے معاملے میں مرنے مارنے والی صورت حال سے دوچار ہو چکی ہے۔ جو بائیڈن نے تقریباً ساڑھے سات کروڑ ووٹ حاصل کئے ہیں، جبکہ ٹرمپ کو بھی سات کروڑ امریکیوں کا اعتماد حاصل ہوا ہے۔ پچاس لاکھ ووٹوں کا فرق ایسے خوفناک تنازعوں کی صورت میں آٹے میں نمک کے برابر ہوتا ہے۔ امریکی آئین کے آرٹیکل II، سیکشن 1، کلاز 2 اور 3 کے مطابق “Each State shall appoint, in such a Manner as the Legislature thereof may direct, a Number of Electors, equal to the whole Number of sanators and represntatives” (ہر ریاست اپنے سینٹ اور ایوانِ نمائندگان کی تعداد کے مطابق الیکٹرز’’نامزد‘‘ کرے گی، جس طرح اس کی اسمبلی نے طریق کار وضع کیا ہو گا)۔ آئین میں لفظ ’’نامزد‘‘ استعمال ہوا ہے ’’منتخب‘‘ نہیں ہوا۔ لیکن الیکٹرز نامزد کرنے کے لیئے تمام ریاستوں نے اپنے اپنے مختلف انتخابی قوانین بنا کر اسے ’’پاپولر ووٹ‘‘ سے منسلک کر دیا ہے۔ یہ تمام ریاستی قوانین ہیں جو ریاستوں نے اپنی سہولت کے لیئے بنائے ہیں۔ ان قوانین کا درجہ آئین کے برابر بالکل نہیںہے۔ ان قوانین کے تحت انتخابات کی حیثیت ریاست کے لیئے صرف ایک مشورے کی سی ہے۔ آئین کی روح کے مطابق ریاست اس مشورے یعنی پاپولر ووٹ کے برعکس بھی اراکین نامزد کر سکتی ہے۔ لیکن روایتی طور پر یہ اسی وقت ہی ہوسکتا ہے جب الیکشن کو متنازعہ بنا دیا جائے، اور الیکشن کو ٹرمپ کی ٹیم متنازعہ بنا چکی ہے۔ موجودہ 2020ء کے الیکشنوں میں 9 ریاستیںمشی گن، وسکونسن، آئی اوا، اوہائیو، پینسلوینیا، شمالی کیرولینا، جارجیا، ائیرزونااور فلوریڈا ایسی ہیں،جنہیں انتخابی لحاظ سے ’’معلق ریاستیں‘‘ (Swing States) کہا گیاتھا۔ انہی ریاستوں کے بارے میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہاں پوسٹل بیلٹ اور مخصوص قوانین کے ذریعے وسیع پیمانے پر دھاندلی کی گئی ہے۔ اس دھاندلی کے خلاف اس کی ٹیم باقاعدہ عدالتوں میں جا رہی ہے۔ اس معاملے کا فیصلہ عدالتوں میںجس کے بھی حق میں ہوگا، دوسری پارٹی اگلی عدالت میں چلی جائے گی۔ ان نو ریاستوں کی اسمبلیوں میں سے آٹھ ریاستوں کی ا سمبلیوں میں ٹرمپ کی پارٹی ’’ریپبلکن‘‘ کی اکثریت ہے اور اسی کے گورنر ہیں، سوائے ایک مشی گن ریاست کے جہاں ڈیموکریٹ گورنر ہے۔ اس متنازعہ صورت حال میں اگر یہ آٹھ ریاستیں جو ٹرمپ کی پارٹی کی ہیں، ان کی ’’اسمبلیاں‘‘ اگر یہ قانون منظور کرلیتی ہیں کہ ہم ان متنازعہ الیکشنوں کے نتائج پر عمل کرنے کی بجائے، آئین کی روح کے مطابق اپنی مرضی کے الیکڑزاسمبلی سے منتخب کرنے کے بعد انہیں نامزد (Appoint) کر کے الیکٹورل کالج میں بھیجتے ہیں تو امریکہ میں ایک دم تنازعہ بھڑک اٹھے گا۔ ظاہر بات ہے ’’ڈیموکریٹ‘‘ اس ریاستی عمل پر عدالتوں میں جائیں گے، مگر آئینی طور پر وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کھینچا تانی بڑھے گی تو ٹرمپ کا منصوبہ اپنے نتائج حاصل کرنے کے لیئے مکمل طور پر تیار ہوگا۔ اگر کوئی ایک ریاست جس میں ریپبلکن گورنر برسرِ اقتدار ہے جیسے فلوریڈا، جس کے 29 ووٹ ہیںوہ اپنے الیکٹرز خود نامزد کر دیتی ہے تو یہ الیکٹرز متنازعہ ہو جائیں گے۔ ان حالات میں جب 6 جنوری 2021ء کو صدر منتخب کرنے کے لیئے الیکٹورل کالج کا اجلاس بلایا جائے گا،تو آئین کے مطابق متنازعہ ووٹوں کو گنتی میں سے نکال کر ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان ووٹنگ کروائی جائے گی، جس کا واضح نتیجہ یہ نکلے گا کہ کوئی ایک امیدوار بھی 270ووٹ حاصل نہیں کر سکے گا۔ جب ایسا ہو گیا تو پھر امریکی آئین ، ایوانِ نمائندگانof Repransetitves) (House کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ان دونوں میں سے اپنا اگلا امریکی صدر منتخب کریں۔ اس انتخاب کے لیئے آئینی طور پر ہر ریاست کو صرف ایک ووٹ حاصل ہے۔ جب یہ آئینی کشمکش اس مقام پر پہنچے گی کہ ہر ریاست اپنا ووٹ ڈالے تو ٹرمپ کی فتح یقینی ہو جائے گی۔ اس لیئے کہ اس وقت امریکہ کی پچاس ریاستوں میں سے 26ریاستوں کے گورنر ٹرمپ کی پارٹی ’’ریپبلکن‘‘ کے ہیں اور 23گورنر جوبائیڈن کی پارٹی ڈیموکریٹ سے ہیں۔ اگر واشنگٹن ڈی سی میں ڈیمو کریٹ پارٹی کے میئر کا ووٹ بھی شامل کر لیا جائے تو پھر بھی ٹرمپ دوووٹ کی اکثریت سے صدر منتخب ہو جائے گا۔ اس مقام تک آئینی کشمکش کو لانے کے لیئے ٹرمپ کی ٹیم کو صرف اور صرف ایک کام کرنا ہے اور وہ یہ کہ ہر صورت میں الیکشن کو ممکن حد تک متناعہ بنائے رکھنا، اس کے نتائج کو تسلیم نہ کرنا اور معاملہ کو 6جنوری 2020ء کے اجلاس تک پہنچانا۔ چھ جنوری کی جیت کے بعد ٹرمپ نے صرف اپنی اس صدارتی جیت پرخود اپنے ہی دستخطوں سے مہر تصدیق ثبت کرنا ہو گی۔ یہ ہے وہ تمام صورتحال ہے، جس کی وجہ سے ٹرمپ اور ٹرمپ کی ٹیم میں اسقدرپراعتماد ہے کہ ٹرمپ نے گذشتہ دنوں پینٹاگون کے سربراہ مارک ایسپر (Mark Esper) کو ایسے وقت برطرف کیا،جب روائتی طور پر جانے والاصدر ایک ’’خاموش بطخ‘‘ (Sitting Duck) کی صورت ہوتا ہے۔ ٹرمپ نے جو بائیڈن کو کسی بھی قسم کی سیکورٹی بریفنگ دینے سے امریکی انتظامیہ کو روک دیا ہے۔امریکی اسٹبلشمنٹ ٹرمپ کے خلاف ایکشن لینا چاہتی ہے، لیکن وہ ان سات کروڑ ووٹرز سے خوفزدہ ہے جن کو ٹرمپ نے ’’گوری نسل پرستی‘‘ کے نام پر جگایا اور مسلح کر دیا ہے۔ یہ متعصب گورے پورے امریکہ کو آگ و خون کے دریا میں بدل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹبلشمنٹ ٹرمپ کے احکامات پر نہ چاہتے ہوئے بھی عمل کرتی چلی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں