جہنم، جسے ہم نے خود تخلیق کیا

یہ ماتم اور گریہ،یہ احتجاج اور غصہ ہمارا مقدر بنا دیا گیا ہے۔ اس لیئے کہ یہ قتل گاہیںاور آبروریزی کے لیئے سہولت گاہیں ہم نے خود تخلیق کی ہیں۔یورپ میں جب مذہب کے معاشرتی لباس کو اتارنے کی تحریک کا آغاز ہوا تو نئے کلچر کے طور پرچند سکولوں اور کالجوں نے اپنے ہاںلڑکیوں اور لڑکوں کو ایک ساتھ پڑھانے کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے ، اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں مخلوط تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر اس کے بعد اِکادُکا سکولوں نے بھی اس کا آغاز کر دیاگیا۔ ’’مخلوط تعلیم‘‘ کا پہلا کالج 3 دسمبر 1833ء میں امریکی ریاست اوہائیو (Ohio) کے شہر اوبلرن (Oberlin) میں قائم ہوا،جس میں 29لڑکے اور15 لڑکیاں داخل کی گئیں۔ اس ایک واقعے کے بعد دنیا بھر میں مدتوں ایک طویل خاموشی رہی۔ تقریباً 43سال بعد برطانیہ میں 1876ء میں برسٹل یونیورسٹی کے کالج میں لڑکوں اور لڑکیوں کی مخلوط تعلیم کا آغاز کیا گیا۔ دنیابھر کے تمام ممالک میں لڑکیوں اور لڑکوں کے علیحدہ علیحدہ تعلیمی ادارے مسلسل کام کرتے رہے۔چونکہ مغربی معاشرے کے لوگ بھی،زن و مرد کے اختلاط سے پیدا ہونے والے خطرات سے اسوقت تک بخوبی آگاہ تھے اور ابھی تک سیکولر، لبرل دانشوروں کا جن بھی بوتل سے پوری طرح باہر نہیں آیا تھا،اسی لیئے دنیا بھر کے جن چند تعلیمی اداروں نے مخلوط تعلیم شروع کی،انہیں بڑے اچھنبے اور حیرت سے دیکھا جاتا۔آکسفورڈ جسے ’’جدید تعلیمی انقلاب‘‘ کی ماں سمجھا جاتا ہے اس میں بھی 1937ء میں نوفلڈ (Nuffield) کالج نے پہلی مرتبہ پانچ لڑکیوں کو لڑکوں کے ساتھ داخلہ دیا،جبکہ آکسفورڈ کے باقی اداروں، برسینوز (Barsenose) ،ہرٹ فورڈ (Hertford) ،جیزز (Jesus) ، سینٹ کیتھرین (St.Catherine) اور وادھم (Wadham) میںکافی دیر بعد، 1974ء میں مخلوط تعلیم کا آغازہوا۔آکسفورڈ کی ہم پلہ کیمرج یونیورسٹی میں پہلا مخلوط تعلیم کا کالج ڈارون (Darwin) تھا،جس نے 1964ء میں ایک خاتون کو لڑکوں کے ساتھ داخل کیا۔ کیمرج کے باقی ادارے 1972ء میں مخلوط ہوئے،جبکہ میگڈلین (Magdalene)وہ کالج تھا جس نے صرف 32سال پہلے 1988ء میں مخلوط نظامِ تعلیم کا آغاز کیا۔ایسی ہی تاریخ دنیا کے تمام مغربی ممالک اور جدید تہذیب کے مراکز کی رہی ہے۔ ان معاشروں کے پڑھے لکھے طبقے اور دانشور قبیلے نے پوری ایک صدی باقاعدہ مخلوط تعلیم کی مخالفت کی۔ہرکسی نے ان خطرات کی نشاندہی کی جو مردوزن کے ایک ساتھ کسی ایک ماحول (Setting) میں کام کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ انیسویں صدی میں،سرمائے کی دوڑ، صنعتی انقلاب اور کارپوریٹ معاشرے کی تخلیق نے جہاں انسان کو مکمل طور پر ایک روبوٹ میں تبدیل کیا، وہیں معاشرے کے قدیم اخلاقی معیارات و تصورات کا بھی خاتمہ کر دیا۔صنعتی ترقی کے نام پر عورتیں، مرد اور بچوں کو پہلے کارخانوں میں ایک ساتھ اکٹھا کیاگیا۔یہ ایک بدترین،ظالم اور استحصالی ماحول تھا۔اس کے خلاف احتجاج کے طور پر لاتعداد تحریریں سامنے آئیں جن میں چارلس ڈکنز کے ناول “Oliver Twist” نے بہت شہرت حاصل کی۔ اس ناول میں ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے برطانیہ کے ایک بچے کی کہانی بیان کی گئی تھی،یہ یتیم بچہ آلیور (Oliver) ایک کارخانے میں جنم لیتا ہے اور پھر زندگی اسے لاتعداد خوفناک تجربات سے گذارتی ہے،جو اس دور کے صنعتی انقلاب والے یورپ میں ہر مزدور بچے کو پیش آرہے تھے۔’’ چائلڈ لیبر‘‘ اسی ’’جدید کارپوریٹ سیکولر‘‘ معاشرے کا پوری دنیا کو تحفہ ہے۔ترقی کے لیئے لاتعداد مزدوروں کی ضرورت تھی،اس لیئے گھر کے ہر فرد کو’’کمانے‘‘ کی دوڑ میں لگا کر مشینوں کے پٹوں کے ساتھ کھڑا کر دیا گیا،جہاںاٹھارہ اٹھارہ گھنٹوں تک ڈیوٹی لی جاتی۔ بچے اونگھتے ہوئے ان پٹوں پر گر جاتے،جان سے جاتے، عورتیں مالک کی جنسی استحصالی کا شکار ہوتیں مگر نوکری چلی جانے کے خوف سے چپ رہتیں اور مرد اس اجتماعی غلامی کو ترقی کا زینہ سمجھتے۔معاشرے کو صنعتی،سیکولر اور لبرل بنانے کے لیئے سب سے پہلے خاندان کے ادارے کو توڑا گیا۔ہر کسی کو پیسہ کمانے کی دوڑ میں لگایا گیا اور جب سرمایہ ہی سب سے بڑی’’اخلاقی قوت‘‘بن گیا تو پھر ہر وہ ادارہ یا تصور جو سیکولر،لبرل اقدار کی راہ میں رکاوٹ تھا،اسے خس و خاشاک کی طرح بہا دیا گیا۔اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ مرد و زن کی علیحدہ علیحدہ کائناتیں (Domains) تھیں۔ مرد اپنی جسمانی ساخت اور بیرونی دنیا سے تعلق کی وجہ سے ایسے پیشے اختیار کرتاتھا جن سے گھر کی آمدن میں اضافہ ہوتا،خوشحالی آتی،جبکہ خاتون انسانی معاشرے کے اہم ترین ستون یعنی اولاد کی تربیت،تعلیم اور اخلاق کو نکھار کر اسے پوری انسانیت کے سامنے شاہکار بنا کر پیش کرتی۔ لیکن ٹیکسٹائل ملوں کے دوڑتے بھاگتے پہیے کے سامنے مرد اور عورت دونوں ایک ساتھ کام کاج کے اعتبار سے برابر کر دیئے گئے۔یورپ کے کارخانوں کا یہی ماحول تھا جس میں ابتدائی طور پر ’’منظم جنسی استحصال‘‘ (Organized sexual harassment) کا آغاز ہوا۔ یورپ کی عطا کردہ یہ روایت ہی ہے کہ مجبور و بے بس عورتیں اور مظلوم بچے ان سرمایہ داروں کی ہوسناک جنسی بھوک کا آج تک مسلسل نشانہ بنتے چلے آرہے ہیں۔ آج دنیا بھر میں اس کے خلاف قانون بنتے ہیں،گرفتاریاں اور سزائیں دی جاتی ہیں،لیکن کوئی مردوں اور عورتوں کی کام کاج کی جگہ علیحدہ نہیں کرتاتاکہ اس جرم کی وجۂ تسمیہ ہی ختم کر دی جائے۔جب معاشروں پر کارپوریٹ،سیکولر، لبرل اخلاقیات کا غلبہ ہو گیا تو پھر تعلیمی اداروں میں بھی اختلاطِ مردوزن ایک فیشن بنانے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ آپ حیران ہوں گے آج سے صرف پچاس سال قبل تک مرد عورتیں علیحدہ تعلیم حاصل کرتے تھے۔سب سے حیرانی کی بات یہ ہے کہ جدید دنیا کے سارے بڑے مفکر،سائنس دان، ادیب،افسانہ نگار،شاعر،مصنف اور فلسفی وغیرہ سب کے سب ایسے ہی اداروں میں سے پڑھ کر نکلے تھے،جہاں مخلوط تعلیم نام کو بھی نہیں تھی۔اس کے بعد،مخلوط تعلیم کے موجودہ پچاس سالوں کو دنیا اوسط درجے (Mediocres) لوگوں کا دور کہتی ہے۔ انگلینڈ اور یورپ میں لاتعداد بڑے بڑے ادارے 1970ء کی دہائی تک مخلوط تعلیم نہیں دیتے تھے۔لیکن برصغیر میں انگریز نے ایک سو سال پہلے ہی اعلیٰ تعلیم کو مخلوط کر دیا تھا۔چونکہ ہمارے ہاں،معاشرتی اخلاقیات مضبوط تھیںاس لیئے ان تعلیمی اداروں کا ماحول بھی پاکیزہ رہا۔لیکن گذشتہ تیس سال پاکستان پر ایسے گذرے ہیں،جن میں سیکولر،لبرل اخلاقیات ایسی پروان چڑھیں کہ قدیم اخلاقی نظام دم توڑ گیا۔ اس لیئے آج ہمارے معاشرے کے اخلاقی مسائل بھی دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کے مسائل جیسے ہو چکے ہیں۔ پشاور یونیورسٹی کی طالبات نے جنسی ہراسمنٹ کے خلاف جو احتجاج شروع کیا ہے یہ صرف اس غلاظت کے پہاڑ کا ایک سرا(Tip of the ice berg) ہے۔ یہ بچیاں بھی اس لیئے اجتماعی طور پر احتجاج کے لیئے باہر نکل آئیں ہیں، کیونکہ پشتون معاشرے کے گھرانوں میں ابھی تک اخلاقی اقدار کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ابھی تک اس معاشرے میں ترقی کی راہ پر چلتے ہوئے اور کامیابی کے زینے طے کرتے ہوئے اپنی عزت و ناموس کی قربانی پرخاموش رہناعام نہیں ہوا۔ مخلوط معاشرہ ایک ایسا کریہہ اور بدنما معاشرہ ہے جس میںموسیقی کی دنیا کی بے تاج ملکہ ’’میڈونا‘‘ فخر سے کہتی ہے “I lost my virginity as a career move” (میں نے اپنے کیرئیر کو آگے بڑھانے کے لیئے اپنی دوشیزگی کو قربان کیا)۔ آج اس سیکولر، لبرل ترقی یافتہ معاشرے کی اخلاقی معراج یہ ہے کہ کوئی خاتون اگر رضامندی سے اپنی دوشیزگی بھی قربان کرکے ترقی کی منزل طے کر لے تووہ قابلِ عزت و احترام ہے، لیکن اس کی مرضی کے بغیر اسے اشاروں سے ترغیب دینا بھی قابلِ دست اندازیٔ پولیس جرم ہے۔ یہ آگ ہم نے خود بھڑکائی ہے اور اس جہنم کا ایندھن بھی ہم خود ہی بنیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں