بھارتی فراڈ میڈیا نیٹ ورک اور ہمارے ملک دشمن روّیے

آج سے چند سال قبل بھارتی چینلز کے کچھ پروگراموں میں مجھے بلایا جاتا تھا۔ بھارتی ٹاک شوز کا طریقِ کار پاکستانی میڈیا میں ہونے والے بے ہنگم شورو غوغا اور بے مقصد لڑائی جیسا ہے مگر کئی گنا زیادہ بدتہذیب ۔ جس طرح پاکستان کے میڈیا میں ایک صحافتی چالاکی مکمل بددیانتی کے ساتھ عموماً استعمال ہوتی ہے کہ جس گروپ، نظریے یا فکر کو نیچا دکھانا ہو، تو اس فکر سے وابستہ نسبتاً کمزور بولنے والے کوشو میں مدعو کیا جاتا ہے اور مخالف گروہ میں سے تیزطرار اور اپنے موضوع کے ماہر بلائے جاتے ہیں۔ ظاہر بات ہے ایک کمزور کے مقابلے میں اگر تین مضبوط بولنے والے بیٹھے ہوں تو اچھے سے اچھے نظریے اور نقطۂ نظر کو بھی آسانی سے شکست دی جا سکتی ہے۔ اگر کبھی غلطی سے وہ کمزور شخص کہیں تیز نکل آئے تو اینکر خود بیچ میں کود پڑتا ہے، اس کو وقت کم دیتا ہے، سوال پوچھ پوچھ کر اسے بے بس کردیتا ہے۔ مجھے عموماً دو موضوعات پر بلایا جاتاتھا، ایک جب کبھی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میںکوئی منفی واقعہ پیش آیا ہویا پھر بلوچستان کی صورت حال پر ہونے والے ٹاک شو میںمجھے مدعو کرتے۔ بلوچستان کے بارے میں ان کے ٹاک شوز میں امریکہ، انگلینڈ یا یورپ کے کسی ملک میں بیٹھے ہوئے کسی فرد کو بلوچستان کا جلا وطن شہری بنا کر پیش کیا جاتاتھا۔یہ افراداسقدر احمق اور رٹے رٹائے طوطے ہوتے تھے کہ میرے چند ایک سوالوں میں ہی ان کی قلعی کھل جاتی کہ وہ نقلی اور بہروپیے ہیں۔ وہ خود کو بلوچستان کے جس علاقے یا قبیلے کا ظاہر کرتے اس کے بارے میں انکی معلومات صفر ہوتیں۔ ایسا جب چند ایک بار مسلسل ہوا پھر انہوں نے مجھے بلانا چھوڑ دیا۔ لیکن شروع دن سے میں نے اپنے کالموں اور ٹاک شوز میں بھی بار بار یہ بات دہرائی ہے کہ بھارت نے بلوچستان کے حوالے سے ایک بھرپور میڈیا مہم چلا رکھی ہے ،جس میں جھوٹی رپورٹیں، جھوٹی خبریں یہاں تک کہ جھوٹے جلاوطن بلوچ بھی بنا رکھے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود تکلیف دہ بات یہ تھی کہ بھارت عالمی سطح پر جوجھوٹا پراپیگنڈہ بلوچستان کے بارے میں ان بہروپیے بلوچوں، فراڈ این جی اوز کی رپورٹوں، اور بے بنیاد اعداد و شمار کی بنیاد پرکرتا تھا، پاکستان کے بڑے بڑے انسانی حقوق کے چمپئن، بلوچستان پر ’’اتھارٹی‘‘ سمجھے جانے والے کالم نگار، فوج مخالف سیاست دان اور یہاں تک کہ یونیورسٹیوں کے سنجیدہ پروفیسروں اوربھارتی لابی کی پروردہ پاکستانی این جی اوز کے ارکان تک اکثراس جھوٹے مواد کو اپنے کالموں میں استعمال کرتے، اس کا اپنی گفتگو میں حوالہ دیتے اور یوں اس جھوٹ پر اپنی ’’مہرِ تصدیق‘‘ ثبت کردیتے۔ ان دانشور نما ماہرین میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو بلوچستان کی ’’ب‘‘ سے بھی واقف نہیں، لیکن میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایکسپرٹ بنے بیٹھے ہیں۔ گذشتہ دس سالوں میں جب کبھی میں نے ان سے الجھنے کی کوشش کی، ان کی معلومات کے مقابلے میں اپنی براہ راست معلومات کا حوالہ دیا تو یہ سارے ایک دم چیخ اٹھتے تھے کہ ’’کیا عالمی میڈیابھی جھوٹ بول رہا ہے‘‘۔ اکثر اوقات اینکر حضرات ان کا ساتھ دیتے اور شو کو ایک مخصوص انداز میں پاکستان کی مخالفت میں ملفوف (Sugar Coated)کر کے ختم کردیا جاتا۔ آج اس مقبول ’’عالمی میڈیا‘‘ کی حقیقت طشت ازبام ہوئی ہے۔وہ بھی کسی میرے جیسے ’’شدت پسند‘‘ تصور کیے جانے والے تجزیہ نگار کے ہاتھوں نہیں، بلکہ مغرب کے ہاتھوں۔ یورپین یونین کے ایک بہت بڑے ادار ے ’’ای یو ڈس انفارمیشن لیب‘‘(EU Disinformation Lab) نے اپنی 89صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ میں بھارتی سرمائے سے چلنے والے فراڈپر’’ میڈیا اور این جی او کے نیٹ ورزک‘‘ کا بھانڈا پھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ کا نام ہے ’’انڈین کرانیکل‘‘ (Indian Chronicle) ۔ رپورٹ کے مطابق جھوٹ کا یہ کاروبار گذشتہ پندرہ سالوں یعنی 2005ء سے چلا جا رہا تھا۔ یہ وہی سال ہے جب ڈیرہ بگٹی میں نواب اکبر بگٹی جاں بحق ہوئے تھے اور بلوچستان میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ گذشتہ سال اس ادارے نے 265ایسی ویب سائٹس کا کھوج لگایا جو 65ممالک میں چلائی جا رہی تھیں اور جن کی سربراہی دہلی کی ایک کمپنی ’’سری واستو گروپ‘‘(Sirivastave Group)کرتی تھی، جن کا مقصد صرف پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنا تھا، خصوصاً یورپی یونین کے رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے افراد کو۔ یہ ایک چونکا دینے والی بات تھی جس پر ادارے کی تحقیق کا دائرہ وسیع کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ویب سائٹس کا یہ جال 116ممالک تک پھیلا ہوا ہے جس میں 550سے زیادہ ویب سائٹس ڈومین رجسٹرڈ ہیں۔ سب سے چونکا دینے والا انکشاف یہ تھا کہ ان تمام ویب سائٹس کے نیٹ ورک کاانسانی حقوق کی دس (10)ایسی این جی از کے ساتھ تعلق ہے جنہیں اقوام متحدہ نے اختیارکیا (Accredited)ہوا تھا۔ جینوا میں قائم یہ این جی اوز پاکستان کے خلاف مسلسل پراپیگنڈے میں مصروف رہتی تھیں۔ تحقیق کرنے والوں نے جب ان این جی اوز اور تھنک ٹینک کی معلومات اکٹھا کرنا شروع کیں تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ان میں سے ایک این جی او “CSOP Commission to Study the Organization of Peace” تھی جو 1930ء میں اقوام متحدہ کی منظور شدہ فہرست میں آئی اور 1975ء میں مکمل طور پر خاموش ہو گئی۔ اس این جی اوز کا سربراہ بیسویں صدی کا ماہر قانون اور ہاورڈ لاء سکول کا پروفیسر لوئس شون (Louis Shon) تھا۔ ان ویب ساٹس پر اس این جی او کے نام سے مرتب رپورٹیں پوسٹ ہوتی تھیں۔ ان رپورٹوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ پروفیسر شون اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے 2007کے سیشن میںشریک ہوئے تھے اور2011ء میں بھی انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریب سے خطاب کیاتھا۔ جبکہ پروفیسرشون 2006ء میں انتقال کر چکے تھے۔ادارے نے بھارت کے فراڈ سے متعلق اپنی اس رپورٹ کا انتساب بھی اسی مرحوم پروفیسر کے نام پر کیا ہے۔ بھارت کے سرمائے سے یہ نیٹ ورک پندرہ سال تک انتہائی کامیابی سے چلتا رہا۔ جھوٹ کے اس کاروبار میں پرانے اخبارات کو ازسرِ نوانٹرنیٹ پر زندہ کیا گیا، جیسے مانچسٹر ٹائمز “Manchester Times” جو22جولائی 1922ء کو بند ہو گیا تھا ،اس کے ٹائٹل سے ایک ویب سائٹ اخبار نکالا گیا۔ ملتے جلتے ناموں سے اخبارات کے صفحات بنائے گئے جیسے ’’لانس اینجلس ٹائمز‘‘ کی جگہ ’’ٹائمز آف لاس اینجلس‘‘۔ایسے نام اس لئے رکھے گئے تاکہ جھوٹا مواد سچ محسوس ہو۔ اس بھارتی نیٹ ورک کی سب سے کامیاب وئب سائٹ “Times of Geneva”تھی جو مختلف ویڈیوز بھی بنا کر اپلوڈ کرتی تھی جن میں اکثر بے بنیاد رپورٹیں ہوتیں۔ یہ میڈیا نیٹ ورک بہروپیے افراد اور جعلی این جی اوز کے ذریعے جینوا اور دیگر ممالک میں پاکستان کے خلاف چھوٹے چھوٹے مظاہرے کرواتے، بہروپیے بلوچوں اور دیگر جعلی اقلیتی رہنماؤں سے انٹرویو کروائے جاتے اور پھر انہیںہزاروں کی تعداد میں صفحات اور ویب سائٹس پر 196ملکوں میںپھیلے ہوئے نیٹ ورک پرپوسٹ کیا جاتا۔جس کے بعداس مواد کو بھارت کی خبر رساں ایجنسی “ANI”اٹھا کر مین سٹریم میڈیا پر نشر کرکے مصدقہ بنا دیتی۔ یورپی یونین کی اسی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ان تمام میڈیا ہاوسز اور این جی اوز کے دفاتر کے فون یا تو بند ہو چکے ہیں یا پھر کوئی فون پر جواب نہیں دیتا۔ بھارتی حکومت نے بی بی سی سمیت ہر نشریاتی ادارے کو تبصرہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس رپورٹ کے مندرجات پر مفصل گفتگو ہونا چاہیے، تاکہ پاکستان کے عوام کو بھارت کی حقیقت حال بھی معلوم ہو اور بھارت کے خیر خواہ پاکستانیوں کا علم ہو۔ اس فراڈ کے سامنے آنے کے بعد، اس وقت کرنے کی اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کے تفتیشی ادارے فوراً اس رپورٹ کی بنیاد پر ان پاکستانی این جی اوز کا سراغ لگائیں، ان انسانی حقوق کے ترجمانوں کا پول کھولیں، کالم نگاروں، صحافیوں، دانشوروں اور سیاست دانوں کو منظر عام پر لائیں جو پندرہ سال سے اس جھوٹ کی فیکٹری کا دانستہ یا نا دانستہ طور پر حصہ رہے یا بھارتی جھوٹ کو پرموٹ کرتے رہے ہیں۔یہ سب پاکستان میں رہتے ہیں اور انہیںبخوبی علم تھا کہ پاکستان میں ایسا کچھ نہیں ہوتا جیسا بتایا جاتاہے۔لیکن پتہ نہیں کونسا ایسا مفاد اور کونسی ایسی ملک دشمنی تھی کہ یہ لوگ پندرہ سال پاکستان کو بدنام کرنے کے حصے دار بنے رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں