قائد اعظم ؒ اور جعل ساز مصنفین (2)

قائداعظم ؒ کی تقریر میں جسٹس منیر کی ’’جعل سازی‘‘ کی تحقیق کرنے والی سلینہ کریم لکھتی ہیں کہ جب میں نے رپورٹ میں دیئے گئے قائداعظمؒ کے انٹرویو میں پاکستان سے متعلق ٹکڑے میں ، ’’جدید جمہوری ریاست‘‘(Modern democratic State) کے ساتھ ’’اقتدارِ اعلیٰ عوام کے پاس‘‘ (Sovereignty resting in the people) کے الفاظ پڑھے تو مجھے اچنبھاسا لگا۔ اس لیئے کہ جدید جمہوری ریاست میں تو یہ تصور بنیادی سمجھا جاتا ہے اور وضاحت کی ضرورت نہیں رہتی کہ اقتدارِ اعلیٰ کس کے پاس ہوگا، یہ بحث تو دنیا کی تمام جمہوری ریاستوں میںآئین سازی کے وقت صرف پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں ہوئی تھی اور اسی بحث کی کوکھ سے تو اس ’’قراردادِ مقاصد‘‘ نے جنم لیا تھا، جس میں یہ تحریر کر دیاگیا تھا کہ ’’اقتدارِ اعلیٰ کی مالک دراصل اللہ کی ذات ہے اور یہ اقتدار اسی کی امانت ہے‘‘۔ یہ بحث جسٹس منیر کی اس جعل سازی سے کئی سال پہلے ہو چکی تھی اور پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں موجود قائداعظم ـؒ کے ساتھی اس ملک کے سیکولر ، لبرل اور ملحد طبقے کو ذلت آمیز شکست دے چکے تھے۔اسی شکست کا داغ مٹانے کے لیے شاید یہ ’’جعلی فقرے‘‘ بنا کر قائداعظمؒ کے نام سے دانستہ طور پرمنسوب کیے گئے۔ سلینہ لکھتی ہیں کہ مجھے یہ پورا فقرہ قاعداعظمؒ کی اُن لاتعداد تقریروں سے بالکل متصادم نظر آیا، جس میں وہ ایک ایسی جمہوری ریاست کا تصور پیش کرتے تھے جو’’ اسلامی مقاصدِ حکومت‘‘ کے مطابق ہو۔مجرم کوئی نہ کوئی غلطی ایسی ضرور کرتا ہے جس سے اس کے جرم کا سراغ ملتا ہے۔ سلینہ کے مطابق فقرے میںگرائمر کی ایک دانستہ غلطی نے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا۔ زبان کی ترتیب، ترکیب اور قاعدے کے مطابق فقرہ یوں لکھا جانا چاہیے تھا، “The New State will be a modern Democratic State” ۔ لیکن جسٹس منیر چونکہ ایک جج تھے اس لیے انہوں نے اپنے تئیں اس میں ’’ضرور‘‘ کی شدت ڈالنے کے لیئے “Will” کی جگہ “Would” کا استعمال کیا تھا۔ انگریزی زبان میں “Would”کا لفظ ایسے فقروں میں استعمال کیا جاتا ہے جس کے اگلے حصے میں کوئی ’’وجہ ‘‘ یا ’’شرط‘‘ (Condition) بتائی جائے۔ لیکن اس فقرے میں تو شرطیہ ذیلی جملہ (Conditional Clause)تو موجود نہیں تھا، یعنی فقرہ مکمل طور پر بے معنی معلوم ہوتا تھا۔ گرائمر کی اتنی بڑی غلطی اور فقرے کی یہ بُنت نہ قاعداعظمؒ جیسے انگریزی پر عبور رکھنے والے بیرسٹر سے متوقع تھی اور نہ ہی ’’رائٹرز‘‘ کا انگریز نمائندہ ’’ڈون کیمبل‘‘ ایسی فاش غلطی کر سکتا تھا۔ سلینہ کریم اس انٹرویو کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی اور چند ہفتوں کی تلاش کے بعد اسے یہ مکمل انٹرویو مل گیا۔ جسٹس منیر نے اپنی بدیانتی چھپانے کے لیئے اس انٹرویو پر سال 1946ء لکھا تھااوردن اور مہینہ درج نہیں کیا تھا تاکہ تلاش کرنے والے سرکرداں پھرتے رہیں۔ سلینہ نے انٹرویو کی تاریخ ڈھونڈ نکالی جو 21مئی1947ء تھی۔ یعنی پاکستان بننے سے صرف تین ماہ قبل۔ لیکن جسٹس منیر اپنی بدیانتی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے انٹرویو کی تاریخ ایک سال پیچھے لے گیا تاکہ ’’تحریکِ پاکستان‘‘ کے اہم ترین ڈیڑھ سال بھی اسی کی لپیٹ میں لے لیے جا ئیں۔سلینہ کو یہ انٹرویو آرکائیوز کے ’’جناح پیپرز‘‘ (Jinnah Papers)کے’’ والیم 1‘‘ میں ملا۔ یہ دراصل ایک ٹائپ شدہ مسودہ تھا جسے ڈان کیمبل نے چھپنے سے پہلے قائداعظمؒ کو دکھایا تھا تاکہ کہیں وہ ان سے کوئی ایسی بات منسوب نہ کر دے جو انہوں نے نہ کہی ہو۔ اس ٹائپ شدہ مسودے پر قائداعظم نے اپنے ہاتھ سے غلطیاں لگائی تھیں اور اس پر ان کے دستخط بھی ثبت تھے۔اس سے بڑی تصدیق کیا ہوسکتی تھی، کیونکہ اخبار میں چھپنے والے انٹرویو سے انسان انحراف بھی کر سکتا ہے کہ میں نے ایسا نہیں کہا تھایا میرے کہنے کا مطلب اس سے مختلف تھا۔ مگرجب قائد اعظمؒ نے خود اپنے مکمل انٹرویو کو چھپنے سے پہلے پڑھ کر تصیح بھی کی تو پھر کسی قسم کے شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہ انٹرویو اچانک نہیں ہوا تھا، بلکہ ڈون کیمبل نے 20مئی1947ء یعنی ایک دن قبل، قائد اعظمؒ کے پرائیوٹ سیکرٹری کو ایک خط کے ذریعے چند سوالات بھیجے تھے اور ان کے آغاز میں یہ تحریر کیا تھا، ’’کہ یہ سوالات برطانیہ، یورپ، مشرقِ وسطی، کینڈا، امریکہ، اور ایشیا کے دیگر ملکوں میں عام آدمی کے ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں۔ ان میں سے بہت کا جواب بار بار دیا جا چکا ہے، لیکن پھر بھی اس تازہ صورتحال میں جبکہ یہ ملک تخلیق ہونے جا رہا ہے، میں ایک بار پھر یہ سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔‘‘ جس سوال کے جواب کو جسٹس منیر نے بدیانتی سے اپنی خواہشات کے مطابق بدلا وہ یہ تھا،’’ کن بنیادوں پر مرکزی حکومت کی انتظامیہ بنائی جائے گی؟‘‘ (On what basis will the central administration of Pakistan be setup)یعنی اس میں حکومت، کابینہ، بیوروکریسی وغیرہ کے انتخاب اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق سوال کیا گیا تھا۔ اس سوال کے جواب میں کوئی بے وقوف ہی ہوگا جو ’’نظریے‘‘ کی بحث چھیڑے دے اور ’’اقتدارِ اعلیٰ ‘‘ کے تصور کا ذکر خودبخود ہی کرے ۔ قائداعظمؒ نے جو طویل جواب دیا تھا، اس میں انتظامیہ کے افراد کے انتخاب کے لیئے بلا رنگ و نسل و مذہب ایک طریق کار کا ذکر کیا گیا تھا، لیکن اس طویل عبارت کو جسٹس منیر نے تبدیل کرنے کے لیے خاص طور پر’’ اقتدارِ اعلیٰ‘‘ (Sovereignty) کا ذکر کیا اور پھر اس کو قائد اعظم ؒ کے رنگ، نسل، زبان والے فقرے کے ساتھ جوڑ کر ایک ایسا ’’جعلی فقرہ‘‘ تخلیق کر دیا، جس سے یہ مطلب نکل آئے کہ پاکستان کا آئین سیکولر ہوگا۔ جسٹس منیر کی اس بددیانت تحریر کو پہلی دفعہ 24اگست1954ء میں ایک سچ بنا کر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن پارٹی کانگرس کے ہندورکن ’’چوٹھوپادہائے‘‘ نے پیش کیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ قائداعظمؒ نے ایسے سیکولر پاکستان کے بارے میں ہی ان سے وعدہ بھی کیا تھا۔ یوں ایک مہرِ تصدیق بھی ثبت ہوگئی۔ اس کے بعد یہ رپورٹ اور اس میں درج مندرجات ایک ’’مقدس‘‘ حیثیت اختیار کر گئے اور ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ 1979ء میں جسٹس منیر نے اپنی کتاب میں انہیں ایک دفعہ پھر درج کیا۔ سلینہ کریم کی تحقیق کے سال 2004ء سے پہلے تک سب اس پریقین کرتے تھے ،کیونکہ اس وقت سلینہ نے انکا جھوٹ اور جعل سازی بے نقاب نہیں کی تھی۔ یہ سب جعل سازیاں قائد اعظمؒ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ہوئیں۔ قائد اعظمؒ کے زمانے میں انہیں ایک مرتبہ سیکولر ثابت کرنے کے لیے ان کی گیارہ اگست 1947ء والی مشہور تقریر کا سہارا لیا جانے لگا تھا۔ قائداعظمؒ کو جب اس کا علم ہوا کہ ان کی اس تقریر سے پاکستان کی ’’سیکولر شناخت‘‘ کے معانی نکالے جا رہے ہیں تو انہوں نے خود اس تقریر کی وضاحت مناسب سمجھی۔ انہوں نے 25جنوری 1948ء کو قانون دانوں کے سامنے گفتگوکو ترجیح دی اور سندھ بار ایسوسی ایشن کے خطاب کرتے ہوئے کہا “Why this feeling of nervousness that the future constitution of Pakistan is going to be in conflict with the Shartiat Law. There are people who want to create mischief and make the propaganda that we will scrap the Shariat Law. Islamic Principles have no parallel. Today they are as applicable in actual life as they were 1300 years ago.” ’’اس معاملے میں کسی کو کوئی پریشانی اور تذبذب کیوں ہے کہ پاکستان کا آئندہ آئین قوانین شریعت کے متصادم ہوگا۔ کچھ افراد ہیں جو یہ شرارت کرتے ہیں اور پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ ہم شریعت کے قوانین کو ترک کر دیں گے۔ اسلامی اصولوں کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ آج بھی ایسے ہی قابلِ عمل ہیںجیسے تیرہ سو سال پہلے تھے۔ قاعداعظمؒ نے دو لفظ خاص طور پر استعمال کیے ’’قوانینِ شریعت‘‘ اور ’’شرارت‘‘ (Mischief)۔لفظ ’’شریعت‘‘ کا استعمال ہر اس شخص کی زبان بند کرنے کے لیے تھا جو سیکولر نظریہ رکھتا تھا۔ جبکہ شرارت کرنے والے تو آج بھی موجود ہیں اور ان کے پاس صرف پراپیگنڈہ کا ہی ہتھیار ہے۔ان شرارت کرنے والے افراد نے ہی جسٹس منیر جیسے لاتعداد ’’جعلی مصنفین‘‘ پیدا کر رکھے ہیں، جوروز جھوٹ گھڑتے ہیں اور اسے سچ بتا کر لوگوں کوگمراہ کرتے ہیں۔(ختم شد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں