واپس آجاؤ !

وہ وقت بہت قریب آرہا ہے جب مسلمانوں کے لیئے دنیا بھر میں اپنے ممالک کے علاوہ کوئی’’ محفوظ جنت‘‘ (Safe Heaven) نہیں رہے گی۔ خصوصاً ان مسلمان سرمایہ داروں کے لیئے جنہوں نے اپنا جائز یا ناجائز سرمایہ ’’محفوظ سرمایہ کاری‘‘ کیلئے دنیا بھرکے ممالک میں منتقل کیا، جائیدادیں خریدیں، فیکٹریاں لگائیں اور کاروبار کیئے۔سید بابر علی پاکستان کی ان چند شخصیات میں سے ایک ہیں جن کا جینا مرنا اس پاکستان سے وابستہ رہا ہے۔وہ ان صاحب ِ حیثیت لوگوں میں سے ہیں، جنہوں نے اس ملک کیلئے بہت کچھ کیا ہے۔ نہر کنارے، ظہور الٰہی روڈ کے پہلو میں ان کے گھر میں آنا جانا تو میرا کئی سالوں سے تھا کہ حیات احمد خان صاحب مرحوم کی قائم کردہ ’’آل پاکستان میوزک کانفرنس‘‘ والوں نے مجھ جیسے کم فہم شخص کو بھی ممبر بنا لیا اور اس کا اجلاس ان کے گھر کے لان میں ہوا کرتا تھا۔ یہ ادارہ کلاسیکی موسیقی کو آج تک کسی نہ کسی حد تک اپنی سرپرستی میں قائم رکھے ہوئے ہے۔میں ان کے کام کا مداح تھا۔ ایک عام سرمایہ دار ان جہتوں کی جانب کبھی نہیں سوچتا جس جانب ان کا دھیان جاتا ہے۔ ’’پیکجز‘‘ کی کامیاب فیکٹری لگا کر کمانے والے کے سرمیں ایسا کیا سودا سمایا کہ ایک عالمی سطح کا تعلیمی ادارہ ’’لمز‘‘ لاہور میں قائم کیا اور پھر ذاتی نگرانی میں اس کے معیار کو برقرار رکھا۔ اس بات کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب میں سیکرٹری آرکائیو اینڈ لائبریرزتھا اور انہیں برصغیر پاک و ہند کی سب سے قدیم لائبریری ’’پنجاب پبلک لائبریری‘‘ کے بورڈ آف گورنر کا چیرمین مقرر کیا گیا تھا۔ اس دوران ان سے جو چند ملاقاتیں ہوئیں وہ اثاثہ ہیں۔ پنجاب پبلک لائبریری کے بورڈ آف گورنر کا ایک اجلاس ’’لمز‘‘ کی شاندار لائبریری میں ہوا تھا، وہیں ان سے اس ادارے کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں اور سید بابر علی کے عزم کی کہانیاں سننے کو ملیں۔ گذشتہ دنوں ہمارے دوست نجم سیٹھی کی بیوی جگنو محسن نے ان کا ایک طویل انٹرویو اپنے یوٹیوب چینل کیلئے کیا، جو سننے کے لائق ہے۔ سید بابر علی کی قابلیت کے بارے میں بہت کچھ لکھااور کہا جا سکتا ہے لیکن کالم کی تنگ دامانی میں یہ چند باتیں میں نے اس لیئے لکھ دی ہیں کہ ان کی جو رائے یا مشورہ میں بیان کرنے جا رہا ہوں اس کی بلاشبہ بہت بڑی اہمیت ہے اور انہوں نے جو وارننگ دی ہے وہ بہت خوفناک ہے۔ شبّر زیدی جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیرمین لگائے گئے تو سید بابر علی صاحب نے شبّر زیدی کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ یہ پاکستان کے سرمایہ دار جو اپنا سرمایہ لے کر دنیا کے مختلف ممالک کی شہریت حاصل کر رہے ہیں، کوئی مالٹا میں جارہا ہے ، کوئی ہنگری میں، تو کوئی کسی اورملک میں، کیا یہ سب تمہارے جاننے والے ہیں۔ شبّر زیدی نے کہا ان میں سے اکثر میرے جاننے والے ہیں۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ شبّر زیدی پاکستان کی سب سے بڑی آڈٹ فرم ’’فرگوسن ‘‘کے مدتوں سربراہ رہے ۔ سید بابر علی نے کہا کہ ان سب کو بلاؤ اور کہو کہ یہ سب اپنا پیسہ واپس پاکستان لے آئیں ورنہ آج سے آٹھ دس سال بعد یہ ہونیوالا ہے کہ ایک دن مالٹا یا کسی اور ملک کی حکومت ان سب کو بلا کر ایک کمرے میں قید کریگی اور ان سے کہے گی کہ تم نے یہ پیسہ جو یہاں کی فیکٹریوں سے کما کر سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں رکھا ہوا ہے وہ سب واپس منگاؤ، اور پھراسے منگوا کر پہلے ضبط کریگی اور پھر ان سب کی شہریت منسوخ کر دیگی۔ سید بابر علی نے کہا میں نے دنیا دیکھی ہے، میں نوے سال سے زیادہ عمر کا ہوںاور میں یقین کے ساتھ یہ کہہ رہا ہوں کہ ایسا جلدہونیوالا ہے اور اگر ایسا ہوا تو یہ ان سب کیلئے ایک انتہائی خوفناک اور کربناک وقت ہوگا۔ شبّر زیدی نے اس واقعے کوبیان کرتے ہوئے کہا کہ میری خواہش ہے کہ یہ ہوجائے کیونکہ جن لوگوں نے یہ سرمایہ باہرکے ممالک میںرکھا ہوا ہے، ان کی اولادیں اس قدر جاہل اور ناکارہ ہیں کہ انہوں نے خودایک دھیلا بھی نہیں کمایا، بس باپ کی لوٹ مار پر عیش کر رہے ہیں اوروہ اس سرمائے کو ضائع کر دیں گے۔ یہ معاملہ صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ پوری دینا کے ہر غریب ، پسماندہ ملک اور خصوصاً مسلمان ملکوں کا ہے جنکے شہریوں کی دولت کا ٹھکانہ ایسی ’’محفوظ جنتیں‘‘ (Safe Heavens) ہیں، جوبرطانیہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ خصوصاً دبئی میں قائم ہیں۔ ستمبر 2018ء میں گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ صرف دبئی میں پاکستان کے شہریوں کی 150ارب ڈالر کی جائیدادیںہیں۔ یہ ’’اقامہ ہولڈر‘‘ جنہیں دبئی شہریت بھی نہیں دیتا،لیکن انہوں نے وہاں لوٹ مار کا سرمایہ رکھا ہوا ہے۔سپریم کورٹ میں اسی پیشی پر فرگوسن کے سربراہ شبّر زیدی بھی پیش ہوئے اور انہوں نے کہا کہ یہ سب سرمایہ وہاں قانونی طور پر نہیں منتقل ہوا بلکہ حوالہ اورہنڈی کے ذریعے منتقل ہوا ہے۔ یہ کایاں اور ہوشیار پاکستانی سرمایہ دار جنہوں نے اتنی چالاکی سے سرمایہ وہاں منتقل کیا ہے ، کیا وہ اپنے جرم کا کوئی نشان چھوڑکر گئے ہوں گے کہ ’’نیب‘‘ یا ’’ایف آئی اے‘‘ ان تک پہنچ جائیں۔ یہ لوگ اسقدر طاقتور ہیں کہ جب کوئی ان کے سرمائے یا کاروبار کا سراغ لگانے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان کے تمام ادارے حتیٰ کہ عدالتیں بھی ان کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔ مثلاً دنیا کے ہر بڑے ملک میں ایک سسٹم نافذہے جسے ’’Track and Trace‘‘ یعنی ڈھونڈو اور پکڑو کہا جاتا ہے،اسکے تحت کسی بھی چیز پر ایک کوڈ لگایاجاتا ہے اور جہاں بھی یہ چیز جائیگی اس کا پتہ چلتا رہیگا۔ شبّر زیدی نے سگرٹ کی ڈبیوں پر یہ کوڈ لگایا لیکن عدالت نے اس پر سٹے آرڈر دیدیا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ بینکوں میں کھلے ہوئے ساڑھے چار کروڑ بزنس اکاؤنٹ ہیںجن کی معلومات کو خفیہ رکھنے کا تحفظ حاصل ہے،ان میں سے صرف ایک کروڑ ٹیکس دیتے ہیں۔ پورے ملک میں ساڑھے تین لاکھ انڈسٹریوں کیلئے بجلی کے کنکشن ہیں، لیکن ان میں سے صرف 45ہزار سیلز ٹیکس دیتے ہیںاور کوئی ادارہ ان کی معلومات نہیں دیتا۔ زراعت میں دو سو فیصد آمد ن آڑھتی کو ہوتی ہے اور ان کا مافیاجب چاہے قیمت بڑھا سکتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو مہنگائی پیدا کرتے ہیں اور پاکستان میں کرپشن کے سرمائے کی ایک ’’محفوظ جنت‘‘ (Safe Heaven) بھی یہ آڑھتیوں کی دنیا ہے۔ یہیں پر ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے اور حکومتوں کو مہنگائی اور اجناس کی کمی سے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ آپ پاکستان میں کھیت پر گندم یا دیگر اجناس کی قیمت نوٹ کر لیں اور پھر مارکیٹ میں اس کی قیمت معلوم کرنے کے بعد فرق نکالیں۔ یہ کئی ہزار گنا نکلے گا۔ یہ سب سرمایہ آڑھتیوں کی جیب میں جاتا ہے۔ پاکستان کی تمام خوراک کی اشیاء پر ایک روپیہ ٹیکس بھی ’’محکمہ انکم ٹیکس ‘‘کو نہیں ملتا۔ اس سارے بددیانت سرمائے کو منظم طریقے سے باہر لے جانے کیلئے سب سے اہم قوانین نوازشریف دور میں ’’فارن کرنسی اکاؤنٹ‘‘ کے قوانین بنائے گئے تھے۔ انکے تحت ایک شخص ایک ٹیکس نمبر لے لیتا ہے، کرنسی اکاؤنٹ کھولتا ہے اور پھر سرمایہ آرہا ہے یا باہرجا رہا ہے کوئی یہ تک پوچھنے والا نہیں ہے کہ یہ پیسہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ تمام راستے ہیں جن کے ذریعے چوری، کرپشن، لوٹ مار اور ذخیرہ اندوزی کا سرمایہ پہلے اس ملک میں اکٹھا ہوتا ہے اور پھر باہر بھیجا جاتاہے۔ اسی کے بارے میں سید بابر علی نے کہاکہ ایک دن آنیوالا ہے کہ ان ملکوں کی حکومتیں جو اس سرمائے پر للچائی ہوئی نظریں لگائے بیٹھی ہیں، وہ ان پاکستانیوں کو اس سرمائے سے بھی محروم کر دیں گی اور انکی شہریت سے بھی۔ یہ بہت خوفناک صورتحال ہے جو بتائی گئی ہے۔ لیکن سیدالانبیاﷺ کی وارننگ تو اس سے زیادہ خوفناک ہے۔ آپؐ نے فرمایا، ’’رومی اپنے شہروں میں موجود باقی ماندہ عربوں پر حملہ کر دیں گے۔ انہیں قتل کرینگے یہاں تک کہ روم کی سرزمین پر نہ کوئی عربی مرد، عورت اور بچہ بچے گا، سب قتل کر دیئے جائیں گے (کتاب الفتن نعیم بن حماد)۔‘‘ اس سے پہلے کہ تمہارا وہ حشر ہو جو سپین میں ہوا تھا، واپس آجاؤ۔ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں