بٹ کوائن کی قیمت میں کئی ہفتے بعد نمایاں اضافہ

دنیائے انٹرنیٹ کی سب سے معروف ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن رکھنے والوں کے لیے اچھی خبر ہے کہ اس کی قدر میں ایک ماہ سے زائد عرصے بعد نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں چین میں ڈیجیٹل کرنسیوں کے خلاف کارروائی اور دیگر وجوہات کی بنا پر بٹ کوائن کی قیمت 60 ہزار ڈالرز سے کم ہوکر 30 ہزار ڈالرز تک پہنچ گئی تھی۔

تاہم 26 جولائی کو بٹ کوائن کی قیمت میں 12.5 فیصد کا اضافہ ہوا اور وہ لگ بھگ 40 ہزار ڈالرز کے قریب تک پہنچ گئی۔

بٹ کوائن کی قیمت کچھ وقت کے لیے 39 ہزار ڈالرز کی حد سے اوپر رہی جو جون کے وسط کے بعد پہلی مرتبہ ہوا، اب بٹ کوائن 38 ہزار ڈالرز سے کچھ زیادہ (62 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) ہے۔

بٹ کوائن کی قیمت میں اضافے کی وجہ ان افواہوں میں اضافہ ہے کہ ای کامرس کمپنی ایمیزون کی جانب سے کرپٹو کرنسیوں کے حوالے سے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

یہ افواہیں اس وقت پھیلنا شروع ہوئیں جب گزشتہ ہفتے کمپنی میں ڈیجیٹل کرنسی اینڈ بلاک چین پراڈکٹ لیڈ کی ملازمت کا اشتہار سامنے آیا۔

اشتہار میں لکھا تھا کہ ہمیں ایک ایسے تجربہ کار پراڈکٹ لیڈر کی ضرورت ہے جو ایمیزون کی ڈیجیٹل کرنسی اور بلاک چین حکمت عملی تشکیل دے سکے اور پراڈکٹ روڈ میپ تیار کرسکے۔

بعد ازاں کمپنی کے ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ ایمیزون کی جانب سے رواں سال کے آخر تک بٹ کوائن کو ادائیگی کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ کمپنی کی جانب سے دیگر کرنسیوں کو قبول کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے جبکہ 2022 میں اپنی ڈیجیٹل کرنسی بھی متعارف کرائی جاسکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس کا آغاز بٹ کوائن سے ہوگا جو کرپٹو پراجیکٹ کا اہم ترین ابتدائی مرحلہ ہوگا اور یہ ہدایات براہ راست جیف بیزوز کی جانب سے آئی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ کمپنی کی جانب سے 2019 سے منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے اور اب جاکر یہ پراجیکٹ کافی حد تک متعارف کرانے کے لیے تیار ہے۔

اگر یہ افواہیں درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ کرپٹوکرنسیوں کے لیے بہت اہم پیشرفت ہوگی اور لوگوں میں ان کے لیے قبولیت میں اضافہ ہوگا۔

ایمیزون کی جانب سے بٹ کوائن کو قبول کرنے سے لاتعداد افراد اس شعبے کا رخ کریں گے اور عالمی سطح پر ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں