آہنی حصار کیوں؟


بجٹ دستاویزات سامنے ہیں اور حیران ہورہا ہوں جس ملک کا سب سے بڑا خرچہ قرضوں پر سود کی ادائیگی ہو جو ترقیاتی بجٹ سے بھی زیادہ ہو وہاں لیڈروں کے دعوے سنیں اور سر دھنیں ۔ ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب، دفاعی بجٹ 920 ارب اور قرضوں کا سود ( اصل زر نہیں صرف سود) کے لیے1366 ارب روپے۔ اگر 1366 ارب روپے سود ایک سال میں ادا کریں گے تو گنجی نہائے گی کیا نچوڑے گی کیا ۔ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں اسحاق ڈار پانچ سالوں میں 32 ارب ڈالرز کا قرضہ لیں گے۔ انہوں نے 4 سالوں میں 24ارب ڈالرز نیا قرضہ لیا لیکن 12 ارب ڈالرز پچھلا قرضہ واپس کیا ۔ ابھی نئے بجٹ سے پتہ چلتا ہے آخری سال میں وہ 8 ارب ڈالرز کا نیا قرضہ لیں گے۔ یوںپانچ سالوں میں 32 ارب ڈالرز کا قرضہ لے چکے ہوں گے۔
جب جنرل مشرف حکومت دو ہزار سات میں ختم ہوئی تھی تو پاکستان کا آزادی سے لے کر60 سالوں میں کل بیرونی قرضہ تیس پنتیس ارب ڈالرز تھا اور ڈار صاحب نے پانچ سالوں میں ہی 32 ارب ڈالرز کا قرضہ لے لیا ۔ اب فرماتے ہیں کہ 1366روپے کا سود دینا ہوگا۔ اصل زر کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ جس ملک نے 1366ارب روپے ہر سال سود ادا کرنا ہو بھلا وہ عیاشیاں کیسے افورڈ کرسکتا ہے جو ہم کر رہے ہیں؟ کیا ایسے ملک کو ایک ارب گیارہ کروڑ روپے کی گاڑیاں ایک سال میں صرف ایک وزیراعظم ریفارمز پروگرام کے لیے خرید لینی چاہئیں یا پھر تاجکستان کو نقد چھپن کروڑ روپے تحفہ کے نام پر دیے جانے چاہئیں یا پھر وزارت خارجہ کو 35 کروڑ روپے کی نئی 35 لگژری گاڑیاں خرید لینی چاہئیں یا پھر مردم شماری کے نام پر پانچ ارب روپے کی گاڑیاں کرائے پر لینی چاہئیں؟ یا وزیراعظم اور صدر کے دفاتر کا بجٹ ایک ایک ارب ہونا چاہیے؟
یا پھر 1366ارب روپے سالانہ سود ادا کرنے والے ملک میںوی آئی پی ایز کی سیکورٹی کے لیے ایک ارب پچیس کروڑ روپے کے آلات خریدے جانے چاہئیں؟ یا پھر ایک اور پروگرام کے یونٹ کے لیے پانچ ڈبل کیبن گاڑیوں کی خریداری پر ڈھائی کروڑ روپے خرچ کرنے چاہئیں؟ یا پھر پارلیمنٹیرینز کو زیادہ ٹھنڈک پہنچانے کے لیے 8 کروڑ روپے کے چلرز خریدے جانے چاہئیں لیکن اسلام آباد میں بچوں کا ہسپتال پیسے مانگے تو صرف چالیس لاکھ روپے ؟ جب کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن صرف کنسلٹنسی کے نام پر ایک فرم کو 23 لاکھ روپے دے دے؟ کیا ایسے ملک کا اٹھارہ لوگوں پر مشتمل وفد جس کی سربراہی وزیرقانون زاہد حامد کررہے ہوں مراکش جاسکتا ہے جہاں وہ چودہ دن تک ٹھہرے اور واپسی پر بل دو کروڑ روپے بنے اور اس کے علاوہ وفد کے لوگوں کو بارہ لاکھ روپے ٹریولنگ الائونس بھی ملے؟ یا پھر تلور کے شکار کے نام پر عوام کے ٹیکسوں سے پچیس کروڑ روپے کا فنڈ بنایا جائے؟
جس ملک نے 1366ارب روپے کا سود ادا کرنا ہو وہاں شوگر مل مالکان کو جو اکثر حکومت اور اپوزیشن کے خاندانوں کی ملکیت ہیں کو عوام کی جیبوں سے ڈیرہ ارب روپے نکال کر سبسڈی کے نام پر نقد دیا جائے کہ تم لوگ مہنگی چینی پیدا کر کے غیرملکی گاہکوں کو سستی کر کے بیچو؟ جب کہ ایف بی آر کے لوگ ایک کروڑ روپے انعام میں لے کر بھی چھ کروڑ روپے کی نئی گاڑیاں خرید لیں؟ پتہ چلا مردم شماری کو بھی نہیں بخشا گیا اور کرائے پر گاڑیاں لینے کے نام پر پانچ ارب روپے خرچ کیے گئے۔ ذرا تصور کریں پانچ ارب روپے کی گاڑیاں خود خرید لی جاتیں اور مردم شماری کے بعد انہی محکموں کو دی جاتیں جنہیں ضرورت تھی جن کے لیے علیحدہ گاڑیاں خریدی گئیں۔
فارن آفس نے جس نے پہلے ہی پینتیس گاڑیاں پینتیس کروڑ میں وی آئی پیز کے نام پر خرید لی تھیں۔ انہوں نے مزید چار کروڑ روپے کی نئی گاڑیاں خرید لیں۔ ان کی دیکھا دیکھی ، لندن میں پاکستانی ہائی کمشن نے کہا ہم کیوں پیچھے رہیں لہٰذا انہوں نے ایک نئی تجویز پیش کی لندن میں پبلک ڈپلومیسی فنڈ بنانا ہے اور اس کام کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے عوام کی جیب سے نکال کر لندن بھیجے گئے۔
سپریم کورٹ کے ججوں کی رہائش گاہوں، ریسٹ ہاوسز کی مرمت کے لیے سترہ کروڑ چالیس لاکھ روپے تو اسٹیٹ بنک کے فرنیچر کے لیے پچاس لاکھ روپے۔ جب کہ میڈیا کو اشتہارات کے نام پر ایک ارب بائیس کروڑ دیے گئے کہ وہ وزیراعظم کے ہیلتھ پروگرام کی مشہوری کریں جب کہ بقیہ جات کی مد میں بھی میڈیا کو پچانونے کروڑ روپے علیحدہ۔
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دھرنا کے سنبھالنے کے لیے سیکورٹی فورسز بلوائی گئیں۔ پنجاب سے بھی بلائی گئی جن پر چھیالیس کروڑ روپے لگے تو آرمی نے اکیس کروڑ روپے وصول کیے جب کہ پنجاب رینجرز نے ساڑھے آٹھ کروڑ روپے کا بل وصول کیا۔ یوں پی ٹی آئی کا دھرنا پچھتر کروڑ روپے میں جا کر پڑا۔
دوسری طرف سیکورٹی اخراجات کی حالت سن لیں جو پچھلے سال بجٹ سے زیادہ ہوئے۔ مغربی سرحد پر کپیسٹی کے نام پر گیارہ ارب روپے مزید بجٹ دیا گیا، ایف سی بلوچستان کا بجٹ کم پڑ گیا اسے تین ارب چودہ کروڑ اور دیے گئے، خیبر پختون خوا نے کہا ہمارا بجٹ بھی سال سے پہلے ختم ہوگیا ہے لہٰذا ہمیں بھی چار ارب دو، ایف سی بلوچستان ہیڈکوارٹر کے لیے ہیلی کاپٹر خریدا گیا ساٹھ کروڑ ۔
پنجاب رینجرز نے اپنا ایک ونگ بنانا تھا اس کے لیے انہیں ایک ارب باسٹھ کروڑروپے دیے گئے، جب کہ سندھ رینجرز نے ایک ارب روپے بجٹ سے بڑھ کر لیا۔ جب کہ ایف آئی اے اسلام آباد کی آرائش کے نام پر ایک کروڑ چوراسی لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ قومی احتساب بیورو جو پلی بارگین ڈیل کے لیے بدنام ہوچکا ہے اس نے بھی نواز شریف کو سمری بھیج کر کہا انہیں پیسوں کی سخت ضرورت پڑگئی ہے لہٰذا اسے چھبیس کروڑ روپے قوم کی جیب سے مزید ادا کیے گئے۔
ایک طرف یہ خرچے سامنے آرہے ہیں تو دوسری طرف ارکان اسمبلی نے اپنی تنخواہیں لاکھوں میں کرا لیں ۔ سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ان کا عام وزراء کے ساتھ بنگلوں میں رہنا اچھا نہیں لگتا تھا لہٰذا انہیں نیا سپیکر ہائوس بنا کر دیا جائے۔ اس پر سات کروڑ چالیس لاکھ روپے کا خرچہ ہونا تھا ۔ سب پیسے خرچ ہوچکے ہیں اور ہائوس ابھی بھی مکمل نہیں ہوا۔ نئے بجٹ میں اب تین کروڑ روپے مزید خرچ ہوگا۔ یوں دس کروڑ روپے تک لاگت جائے گی۔ اس طرح ایک اور وی آئی پی کے سرکاری گھر کی دیوار تعمیر کرنے کے لیے بھی پانچ کروڑروپے خرچ کیے گئے۔یہ سب خرچے اس ملک میں ہورہے ہیں جس نے اس سال 1366ارب روپے سود ادا کرنا ہے۔
ہاں یہ بتانا تو آپ کو بھول گیا ایک ارب روپے کی لاگت سے اسلام آباد میں اسٹیٹ گیسٹ ہائوس بھی تعمیر ہورہا ہے جس کے پیسے ریلیز کر دیے گئے ہیں ۔ ویسے اسٹیٹ گیسٹ ہائوس سے یاد آیا کراچی میں اسٹیٹ گیسٹ ہائوس جو صرف بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کے لیے مخصوص ہے اور اس کے لیے سخت رولز ہیں ،آفس پر بھی صدر ممنون کے بچوں نے قبضہ کر کے رہائش رکھی ہوئی ہے۔ ان کے برخوردار بھیڑ بکریوں کا کاروبار کرتے ہیں لہٰذا کئی دفعہ وہاں جانور بھی لوڈ اور ان لوڈ کرنے ہوتے ہیں۔ یہ انجام ہوا ہے کراچی اسٹیٹ گیسٹ ہائوس کا اور اب دیکھتے ہیں اسلام آباد گیسٹ ہائوس پر کس کے بچے قبضہ کرتے ہیں ۔ ویسے صدر ممنون حسین کے بچوں کے کراچی اسٹیٹ گیسٹ ہائوس پر قبضہ سے یاد آیا کہ جتنی سیکورٹی انہیں دی جارہی ہے اس سے حیرانی ہوتی ہے۔ کہیں کچھ دیگر محکمے اور لوگ صدر کی سیکورٹی کے نام پر ان کی سیکورٹی کا بہانہ کر کے ہر سال کروڑں روپے تو نہیں کما رہے؟ کیونکہ پچھلے سال صدر کی سیکورٹی کے آلات خریدنے پر چالیس کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے تو اس سال پھر ممنون حسین کے لیے پھر نئے سیکورٹی آلات خریدنے ہیں لہٰذا چودہ کروڑ روپے لے لیے۔اب تک صرف ان کے لیے 55 کروڑ کے آلات خریدے گئے ہیں ۔ حالانکہ صدر صاحب مشکل سے سال میں ایک دفعہ پاکستان ڈے کی پریڈ پر نظرآتے ہیں۔
کوئی بتائے گا جس ملک نے ہر سال 1366ارب روپے کا سود قرضوں پر ادا کرنا ہو، بیرون ملک پاکستانیوں نے پیسہ بھیجنا کم کردیا ہو، امپورٹ 46ارب ڈالرز تک جا پہنچی ہیں ،ایکسپورٹ چوبیس ارب ڈالرز سے بیس ارب ڈالرز تک آگئی(جس سے 1366 روپے سود کے لیے جائے گا) وہاں ممنون حسین کو کس سے خطرہ ہے جن کے نام پر ہر سال کروڑوں روپے کے سیکورٹی آلات خرید جارہے ہیں ۔ ممنون حسین کے گرد آہنی حصار کی ضرورت کیوں ہر سال پیش آرہی ہے؟ع
عرش کی عقل دنگ ہے، چرخ میں آسمان ہے

(بشکریہ روزنامہ دنیا)

اپنا تبصرہ بھیجیں