hamid-mir-columns

غلاموں کے غلام…- فروری 14, 2013

Hamid-Mir
ایک درویش سے بادشاہ کی ملاقات ہوئی، بادشاہ نے کہا کہ مجھ سے کچھ مانگو، درویش نے کہا کہ میں اپنے غلاموں کے غلام سے کچھ مانگناا پنی توہین سمجھتا ہوں۔ یہ سن کر بادشاہ کو غصہ آگیا اور اس نے درویش سے پوچھا کہ جناب میں آپ کے غلاموں کا غلام کیسے ٹھہرا۔ درویش نے بڑے اطمینان سے جواب دیا کہ حرص اور امید دونوں میرے غلام ہیں اور تم حرص اور امید کے غلام ہو۔ بادشاہ اور درویش کا یہ مکالمہ حضرت سید علی ہجویری کی شہرہ آفاق کتاب ”کشف المحجوب“ میں شامل ہے۔ حضرت سید علی ہجویری نے تصوف اور فقر کے بارے میں اپنی کتاب میں لکھا کہ فقیر وہ ہے جس کی ملکیت میں کوئی چیز نہ ہو اور کسی چیز کے حاصل ہونے سے اسے کوئی فرق نہ پڑے۔ وہ اسباب دنیا کے موجود ہونے سے اپنے آپ کو غنی نہ سمجھے اور ان کے نہ ہونے سے اپنے آپ کو محتاج نہ جانے اور اسکی نظر میں اسباب کا ہونا نہ ہونا برابر ہو۔ حضرت سید علی ہجویری نے”کشف المحجوب“ کئی سو سال پہلے لکھی تھی اس کتاب کا علمی و ادبی معیار اتنا بلند ہے کہ مجھ جیسے کم علم کو یہ کتاب سمجھنے کے لئے بار بار پڑھنی پڑی۔ میں نے یہ کتاب تصوف کو سمجھنے کے لئے پڑھی۔ حضرت سید علی ہجویری اور دیگر صوفیاء کے ساتھ میرا قلبی لگاؤ بچپن سے ہے۔ میں اپنی والدہ اور والد صاحب کے ساتھ ان صوفیاء کے مزارات پر جاتا رہا ہوں۔ مجھے میرے والدین نے ہمیشہ یہی بتایا کہ یہ صوفیاء اللہ کے نیک بندے تھے، انہوں نے برصغیر پاک و ہند میں اپنی تعلیمات کے ذریعے اسلام پھیلایا۔ ان کے مزار پر جاکر فاتحہ خوانی کرنا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا نیک عمل ہے۔ مجھے کبھی یہ احساس نہ ہوا تھا کہ ان صوفیاء کے اسلام اور میرے اسلام میں کوئی فرق ہے۔
11ستمبر2001ء کو نیویارک اور واشنگٹن میں القاعدہ کے حملوں کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف ایک عالمی جنگ کا آغاز کیا تو بہت سے مغربی دانشوروں نے ہمیں یہ بتانا شروع کیا کہ ایک رجعت پسند اسلام ہے اور ایک لبرل اسلام ہے۔ ایک جہادی اسلام ہے، ایک صوفی اسلام ہے۔ ایک وہابی اسلام ہے ایک بریلوی اسلام ہے۔ ایک شیعہ اسلام ہے ایک دیوبندی اسلام ہے۔ فرقہ واریت دنیا کے تمام بڑے مذاہب میں موجود ہے اور اسلام میں بھی موجود ہے لیکن جنرل پرویز مشرف کے دور میں گانے بجانے اور پینے پلانے کے لئے مشہور کچھ شخصیات نے اچانک صوفی ازم کا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ یہ لوگ کچھ ایسا تاثر دے رہے تھے کہ شریعت اور طریقت دو مختلف چیزیں ہیں، نماز اور روزہ مولویت ہے جبکہ نماز اور روزے سے آزاد رہ کر اللہ ہو کے نعرے لگانا اور دھمالیں ڈالنا صوفی ازم ہے۔ اس قسم کی باتیں سن کر میں نے بار بار ”کشف المحجوب“ سے رجوع کیا جس میں حضرت سید علی ہجویری نے واضح طور پر لکھا ہے کہ شریعت کے بنیادی اصولوں پر عمل کئے بغیر طریقت کی منزلیں طے نہیں کی جاسکتیں۔
صوفیائے کرام کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کچھ بزرگوں نے پیار محبت، امن و سلامتی اور برابری و مساوات کی تعلیمات کے ذریعے اسلام پھیلایا اور اپنے زمانے کے مسلمان بادشاہوں کے عتاب کا نشانہ بھی بن گئے حضرت نظام الدین اولیاء اور سلطان غیاث الدین تغلق کے مابین چپقلش نے تو حضرت امیر خسرو کو بھی پریشان کر دیا۔ کشمیر کے ایک حکمران سلطان سکندر نے ہندوؤں پر ظلم و ستم شروع کیا اور ان کے مندر تباہ کئے تو حضرت میر سید محمد ہمدانی نے سکندر کے ان ظالمانہ اقدامات کی مذمت کی اور اسے بتایا کہ دین میں جبر کی کوئی گنجائش نہیں۔ دوسری طرف حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے جو صوفی بھی تھے اور مجاہد بھی تھے۔ انہوں نے اجمیر کے ہندو حکمران پرتھوی راج چوہان کے ظلم و ستم سے نجات کیلئے سلطان شہاب الدین غوری کا ساتھ دیا اور ان کے بہت سے مرید پرتھوی کے خلاف لڑائیوں میں شہیدہوتے رہے۔ مجھے بغداد میں حضرت عبد القادر جیلانی سے لیکر دہلی میں نظام الدین اولیا اور اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی سمیت کئی بزرگوں کے مزارات پر حاضری اور ان کی تعلیمات کے مطالعے کا موقع ملا۔ ان بزرگوں کا اسلام وہی ہے جو قرآن میں موجود ہے اور جو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں موجود ہے۔ اسلام صرف اسلام ہے۔ اسلام نہ لبرل ہے نہ رجعت پسند ہے۔ مشکل صرف یہ تھی کہ عام لوگوں کیلئے ”کشف الحجوب“ کو پڑھنا اور سمجھنا خاصا مشکل ہے لیکن اس مشکل کو پروفیسر محمد عبد اللہ بھٹی نے آسان کر دیا۔ انہوں نے اپنی کتاب ”اسرار روحانیت“ میں صوفیاء کی تعلیمات کو انتہائی سادہ زبان میں اکٹھا کر دیا ہے۔
پروفیسر محمد عبد اللہ بھٹی نے حضرت جنید بغدادی کے الفاظ میں تصوف کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اللہ سے وفا کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی پیروی کرنا تصوف ہے۔ بھٹی صاحب نے ایک اور صوفی بزرگ شیخ عبد اللہ تستری کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہمارے سات اصول ہیں۔ کتاب اللہ سے مضبوط تعلق، پیروی رسول، رزق حلال، ایذا رسانی سے پرہیز، گناہ سے نفرت، توبہ اور اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی۔ صوفیاء کی تعلیمات دراصل تعلیمات نبوی کا تسلسل ہیں لیکن 11ستمبر2001ء کے بعد مغربی دانشوروں نے صوفی ازم کے نام پر مسلمانوں کوکنفیوز کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ صوفیاء کے مزاروں پر جانے والے اچھے مسلمان ہوتے ہیں اور صوفیاء کو نہ ماننے والے برے مسلمان ہوتے ہیں۔ پھر صوفیاء کے مزاروں پر حملے شروع ہوگئے۔ حملے کرنے والوں کا دعویٰ تھا کہ صوفیا کے مزاروں پر بدعت ہوتی ہے۔ لوگ اللہ سے نہیں مانگتے قبر سے مانگتے ہیں۔ یہ صرف جہالت اور کم علمی تھی۔ اصلی صوفی وہی ہے جو حضرت علی ہجویری اور شیخ جنید بغدادی کی طرح شریعت کے راستے پر چلتا ہے۔ پروفیسر محمد عبد اللہ بھٹی نے ان صوفیاء اور عام مسلمانوں میں فرق بھی بیان کیا ہے اور فرق کی وجہ بھی لکھ دی ہے۔ صوفی معجزہ کرسکتا ہے عام مسلمان صرف دعا کرسکتا ہے۔ صوفی کے معجزے کے پیچھے اس کی ریاضت ہوتی ہے صوفی قرآن پاک کی کسی آیت کا ورد کرتے ہیں تو ان میں بھی اس آیت کے الفاظ کی طاقت آجاتی ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو آیت کے الفاظ کا مطلب بھی معلوم ہو۔ ”اسرار روحانیت“ میں پروفیسر محمد عبد اللہ بھٹی نے کچھ اپنے تجربات بھی بیان کئے ہیں۔ انہوں نے کلام پاک کی طاقت سے کچھ معجزے کر دکھائے لیکن میں ان معجزوں کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ معجزے اس کتاب میں پڑھیں کیونکہ اس کتاب میں صوفیا کی تعلیمات کی روشنی میں کہا گیا ہے کہ تکبر سے بچو۔ خدا کے سامنے جھکنے سے خود کو بے نیاز سمجھنا بھی تکبر ہے۔ اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ انسان کے دل میں حسد اور ایمان اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ حسد سے بچو،جھوٹ مت بولو، ظلم نہ کرو، اس کتاب میں عجلت پسندی سے پرہیز کو بھی صوفیاء کی صفت قرار دیا گیا ہے کیونکہ قرآن پاک بھی عجلت پسندی کی مذمت کرتا ہے۔ سب سے اہم صفت خوف خداہے دل میں خوف خدا آجائے تو انسان کئی برائیوں سے بچ جاتا ہے۔ صوفیاء کے اسلام اور قرآن کی تعلیمات میں کوئی فرق نہیں۔ پروفیسر محمد عبد اللہ بھٹی اپنی تحقیق اور محنت پر مبارکباد کے ساتھ ساتھ شکریے کے مستحق ہیں انہوں نے ”اسرار روحانیت“ کے ذریعے ہمیں بتایا کہ ہم تو غلاموں کے غلام ہیں۔ ہمارے حکمران بیرونی طاقتوں کے غلام اور بیرونی طاقتیں شیطان کی غلام۔ اگر ہم روحانی قوت حاصل کرلیں تو اس غلامی سے نجات حاصل کرسکتے ہیں ۔ روحانی قوت اللہ اور اس کے نبی کی غلامی میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں