hamid-mir-columns

شہباز شریف سے معذرت کے ساتھ…- مارچ 11, 2013

Hamid-Mir
پاکستان کو بیرونی طاقتیں اتنا نقصان نہیں پہنچا سکیں جتنا نقصان پاکستان کو پاکستانیوں کے ہاتھوں اٹھانا پڑا۔ بانی پاکستان قائداعظم کی وفات کے فوری بعد اقتدار کی رسہ کشی میں اسلام کو گھسیٹا گیا۔ مسلمانوں کے ملک میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے اچھے مسلمان اور برے مسلمان کی بحث شروع ہو گئی اور ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کفر کے فتوؤں کے بعد محب وطن پاکستانی اور مشکوک پاکستانی کی بحث شروع ہوئی۔ 1964ء کے صدارتی انتخاب میں فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کے مقابلے پر محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دینے والوں پر غداری کے الزامات لگائے گئے۔ جنرل ایوب خان نے ریاستی طاقت کے ذریعہ صدارتی الیکشن جیت لیا لیکن قائداعظم کے پاکستان کو شکست دے دی۔ قائداعظم کی بہن کا ساتھ دینے والے بنگالی لیڈر شیخ مجیب الرحمان پر جھوٹے مقدمات قائم کر کے انہیں جیل میں ڈال دیا گیا جس کے باعث مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں فاصلے بڑھ گئے۔ جنرل یحییٰ خان کے دور حکومت میں ایوان صدر راگ رنگ کی محفلوں کا مرکز بن گیا لیکن ستم ظریفی یہ تھی کہ کئی علماء نے شرابی صدر کو اسلام اور پاکستان کا عظیم مجاہد قرار دے کر ”شوکت اسلام“ کے جلوس نکالے جس میں یحییٰ خان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ پھر اس یحییٰ خان نے 1970ء کے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کے بجائے کچھ سیاسی مفاد پرستوں کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کیا۔ فوجی آپریشن نے خانہ جنگی کو جنم دیا۔ خانہ جنگی نے بھارت کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کا موقع فراہم کیا اور بھارتی فوج نے پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ دی۔ اس جنگ کا نتیجہ ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کے سرنڈر کی صورت میں نکلا۔ پاکستان دو لخت ہو گیا لیکن اتنے بڑے سانحے کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بھی بلوچستان میں فوجی آپریشن جاری رہے اور پھر فوجی جرنیلوں نے بھٹو حکومت کا خاتمہ کر دیا۔
جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالا اور اسلام کے نام پر اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرتے رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان کو فرقہ وارانہ اور لسانی و علاقائی نفرتوں کی آگ میں جھونک دیا گیا۔ آج کی اکثر فرقہ وارانہ اور لسانی تنظیموں نے ضیاء دور میں جنم لیا۔ فوجی آمریت کے خلاف سیاسی جماعتوں کے اتحاد تحریک بحالی جمہوریت کو کمزور کرنے کے لئے جان بوجھ کر فرقہ وارانہ اور لسانی تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ یہ تنظیمیں آہستہ آہستہ بندوق برداروں کے گروہوں میں تبدیل ہو گئیں جنہیں ریاستی ادارے بھی امداد فراہم کرتے رہے۔ محمد خان جونیجو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی کمزور سیاسی حکومتیں ان بندوق برداروں کا کچھ نہ بگاڑ سکیں اور پھر جب گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کے سامنے سرنڈر کیا اور اپنے فوجی اڈے امریکہ کو دے دیئے تو یہ بندوق بردار ریاست کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ کفر کے فتوؤں اور غداری کے الزامات کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔ مشرف کی امریکہ نواز پالیسی کے مخالفین نے اسے کافروں کا ایجنٹ قرار دے دیا اور مشرف نے اپنے مخالفین کو غدار قرار دے دیا۔ مشرف نے ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ آئین توڑا لیکن وہ ”سب سے پہلے پاکستان“ کا نعرہ لگا کر سب سے بڑا محب وطن بن گیا۔ مشرف کے خلاف اعلان جہاد کرنے والوں نے اپنی ہی فوج، اپنی ہی مساجد اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر حملے شروع کر دیئے۔ تشدد اور خونریزی نے معاشرے سے برداشت اور رواداری کو بالکل ختم کر دیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ معمولی اختلاف رائے پر کفر کا فتویٰ لگا دیا جاتا ہے، غداری کے الزامات سے نوازا جاتا ہے اور یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ آئین پاکستان کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ 9 مارچ کو لاہور میں جوزف کالونی پر حملہ ایک مسیحی بستی پر حملہ نہیں تھا۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ساکھ پر حملہ تھا۔ حملہ کرنے والوں کو اسرائیل یا بھارت نے لاہور نہیں بھیجا تھا بلکہ تمام حملہ آور پاکستانی اور مسلمان تھے۔ بظاہر یہ حملہ آور توہین رسالت کے ایک واقعے پر احتجاج کر رہے تھے لیکن ان حملہ آوروں نے جوزف کالونی میں لوٹ مار کرنے کے بعد 178 مکانات اور دکانیں جلا ڈالیں۔ کیا یہ شمع رسالت کے پروانے تھے؟ رسول کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان پر میری جان بھی قربان لیکن جوزف کالونی پر حملہ کرنے والوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان بلند نہیں کی بلکہ یہ سب کے سب بھی توہین رسالت کے مرتکب ہوئے۔ انہوں نے شانِ مصطفی کے نعرے لگاتے ہوئے لوٹ مار کی، بے گناہوں کے گھر جلائے اور اپنے پیارے نبی کی تعلیمات کا مذاق اڑایا۔ ان منافقین نے پوری دنیا میں صرف پاکستان نہیں بلکہ اسلام کا نام بھی بدنام کیا۔ کیا اسلام اور پاکستان کے متوالے ایسے ہوتے ہیں؟ جی نہیں! یہ اسلام اور پاکستان کے دشمن تھے۔ اگر کسی نے توہین رسالت کی تھی تو اس کے خلاف مقدمہ درج ہو چکا تھا لیکن کسی ایک فرد کے جرم کی سزا سینکڑوں مسیحیوں کو دینا کہاں کا انصاف تھا؟
افسوس صد افسوس کہ لاہور کی جوزف کالونی پر حملے کے وقت شہر کی سول انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ آج کل ہم میڈیا میں خادم اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے کارناموں کا بہت ذکر سنتے ہیں۔ جس وقت جوزف کالونی میں لوٹ مار جاری تھی تو سندھ کے صحافیوں کا ایک وفد لاہور میں بیٹھا یہ کہہ رہا تھا کہ کاش سندھ کو بھی شہباز شریف جیسا وزیر اعلیٰ مل جاتا۔ یقینا شہباز شریف نے کئی اچھے کام کئے ہیں لیکن میں انہیں یہ یاد دلانے کی جسارت کروں گا کہ یکم اگست 2009ء کو گوجرہ میں بھی مسیحیوں کی ایک بستی پر حملہ ہوا تھا جس میں چار عورتوں ایک بچے سمیت آٹھ افراد مارے گئے۔ اس وقت بھی شہباز شریف نے مذمتی بیان جاری کیا یہاں تک بھی کہہ دیا کہ توہین رسالت کا کوئی الزام ثابت نہ ہوا لیکن اس واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی سخت قدم نہ اٹھایا گیا۔ اس وقت وفاقی وزیر شہباز بھٹی نے سانحہ گوجرہ کی ذمہ داری ایک کالعدم تنظیم پر ڈالی تھی کچھ دنوں بعد شہباز بھٹی کو قتل کر دیا گیا۔ 29 اپریل 2011ء کو ایک دفعہ پھر گوجرانوالہ میں مسیحیوں پر حملہ ہوا اگر ان واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف موثر کارروائی کی جاتی تو شائد 9 مارچ 2013ء کا واقعہ پیش نہ آتا۔
سانحہ جوزف کالونی پاکستانی مسلمانوں کے ماتھے پر بدنامی کا ایک ایسا داغ ہے جسے نظر انداز کرنا ملک دشمنی بھی ہے اور اسلام دشمنی بھی ہے۔ یہ درست ہے کہ مسیحیوں کی عبادت گاہوں پر کراچی میں بھی حملہ ہوا اور مردان میں بھی حملہ ہو چکا ہے۔ میں نے ان حملوں کی بھی مذمت کی تھی لیکن ان حملوں کے بعد میں نے کسی اخبار میں پنجاب کے صحافیوں کا یہ بیان نہیں پڑھا کہ کاش قائم علی شاہ یا امیر حیدر ہوتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہوتے۔ یہ اعزاز صرف شہباز شریف کو ملا ہے کہ ان کے شہر لاہور میں پولیس کی آنکھوں کے سامنے جوزف کالونی کو جلا کر خاک کر دیا گیا اور اسی دن سندھ کے کچھ صحافیوں سے یہ کہلوایا گیا کہ کاش شہباز شریف سندھ کے وزیر اعلیٰ ہوتے۔ گوجرہ، گوجرانوالہ اور لاہور میں غیر مسلموں پر حملے صرف شہباز شریف نہیں ہم سب کیلئے بہت بڑا چیلنج ہیں۔ ان حملوں کے ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزا دلوانا ہر محب وطن پاکستانی کا فرض ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں