ایک قومی ہیرو کو سلام…- مارچ 25, 2013

hamid-mir-columns

Hamid-Mir
وہ پاکستانی قوم کا ایک عظیم ہیرو تھا۔ اس کی موت پر ہر محب وطن پاکستانی سوگوارہے لیکن بہت کم پاکستانیوں کو یہ علم ہے کہ ان کے اس ہیرو کے ساتھ پاکستان میں کتنی ناانصافی ہوئی۔ یہ اس عظیم ہیرو کی بڑائی تھی کہ وہ مرتے دم تک اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف کوئی شکوہ زبان پر نہیں لایا کیونکہ اس کی وفاداری اپنی ذات کے ساتھ نہیں بلکہ ملک و قوم کے ساتھ تھی۔ اس عظیم ہیرو کی موت کے بعد ہمیں اس کے کارنامے ضرور یاد کرنے چاہئیں اسے جتنا خراج تحسین پیش کیاجائے وہ کم ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ان نا انصافیوں کاذکر بھی ضروری ہے جن کا سامنا اس عظیم ہیرو نے کیا۔ یہ ذکراس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور آئندہ کسی ہیرو کے ساتھ زیادتی نہ کریں۔ آج میں جس ہیرو کی عظمت کو سلام پیش کرناچاہتا ہوں اس کا نام ایئرکموڈور محمد محمودعالم خان جو ایم ایم عالم کے نام سے مشہور تھے۔ایم ایم عالم کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی تفصیل میں جانے سے پہلے آپ کو اتنا بتا دینا کافی ہے کہ وہ بنگالی تھے۔ انہیں ہمیشہ اپنے مسلمان اور پاکستانی ہونے پرفخر تھا لیکن جب بنگالیوں کا ذکر آتاتو وہ کہتے کہ پاکستان کو مسلم لیگ نے بنایا اور مسلم لیگ کو 1906 میں ڈھاکہ میں بنایا گیا۔ وہ فخر سے دعویٰ کرتے کہ تحریک پاکستان کا آغاز بنگالیوں نے کیااور 23مارچ 1940 کو لاہور میں قرارداد پاکستان پیش کرنے والے اے کے فضل الحق بھی ایک بنگالی تھے۔ایم ایم عالم 6جولائی 1935 کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعدان کے خاندان نے کلکتہ سے ڈھاکہ ہجرت کی۔ ایم ایم عالم نے گورنمنٹ ہائی سکول ڈھاکہ سے میٹرک کرنے کے بعد 1953 میں پاکستان ایئرفورس میں کمیشن حاصل کیا۔ 6ستمبر 1965 کو پاکستان اور بھارت کے درمیا ن جنگ شروع ہوئی توسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم سرگودھا میں تعینات تھے۔جنگ کے پہلے دن ایم ایم عالم نے پاکستان ایئرفورس کے گیارہویں سکواڈرن کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کے علاقے میں گھس کر دو جہاز گرائے اور تین کو شدید نقصان پہنچایا۔ بھارتی ایئرفورس نے 7ستمبر کو پاکستان ایئرفورس کے سرگودھا بیس کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔
7ستمبر کو بھارتی ایئرفورس نے سرگودھا پر چھ حملے کئے۔ صبح ساڑھے پانچ اور چھ بجے کے درمیان سرگودھا پر چار حملے ہوئے۔ ایم ایم عالم دشمن کے دو جنگی جہازوں کا پیچھا کررہے تھے کہ انہیں فلائٹ لیفٹیننٹ مسعود اختر نے ایک اور حملے کی اطلاع دی۔ کچھ ہی دیر میں ایم ایم عالم کو دشمن کے پانچ جہازنظرآگئے اور پھر انہوں نے چند ہی لمحوں میں ایک منٹ کے اندر دشمن کے پانچ جہاز تباہ کردیئے۔ دشمن کے چارپائلٹ مارے گئے لیکن ایک بھارتی پائلٹ سکواڈرن لیڈر اونکرناتھ کیکر پیراشوٹ کی مدد سے کود گیا اور دریائے چناب کے کنارے ایک گاؤں کے پاس بحفاظت اترگیا۔ اس نے فوری طور پر اپنے بیج اتار دیئے اورسادہ لوح دیہاتیوں کو پنجابی میں بتایا کہ وہ پاکستان ایئرفورس کا پائلٹ ہے۔ اس دوران ایک سمجھدار شخص امداد حسین شاہ نے شور مچا کر بھارتی پائلٹ کو پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کردیا۔ کیکر چند ماہ پاکستان کاجنگی قیدی رہا لیکن پھر رہا کردیا گیا۔ واپس پہنچ کر اس نے دعویٰ کیا کہ اس کا جہاز ایم ایم عالم نے تباہ نہیں کیا بلکہ اس کے جہاز کا انجن فیل ہو گیا تھا لیکن اس وقت تک پوری دنیا ایم ایم عالم کے عظیم کارنامے کا اعتراف کرچکی تھی۔ ایم ایم عالم کو ان کے اس کارنامے پرستارہ جرأت سے نوازا گیا۔ وہ پاکستانیوں کے ہیرو بن چکے تھے۔ پاکستان ایئرفورس کے نوجوان افسر انہیں اپنا آئیڈیل قرار دیتے لیکن کچھ سینئر افسر اُن سے حسد کرتے تھے۔ 1971کی پاک بھارت جنگ شروع ہوئی تو ایم ایم عالم سمیت پاکستان ایئرفورس کے تمام بنگالی افسروں کے جہاز اڑانے پر پابندی لگا دی گئی۔ پابندی کا شکار ہونے والوں میں سیف الاعظم بھی شامل تھے جنہوں نے 1965 کی جنگ میں بھارت کے خلاف بہادری کے جوہر دکھائے اور 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیلی طیارے مار گرائے۔ سیف الاعظم کو اردن اورعراق کی حکومتوں نے بہادری کے اعزازات سے نوازا لیکن 1971 میں سیف الاعظم اور ایم ایم عالم کا بنگالی ہونا ایک جرم بن چکا تھا۔ سیف الاعظم اس عدم اعتماد کو برداشت نہ کرسکے اور پاکستان چھوڑ کر بنگلہ دیش چلے گئے لیکن ایم ایم عالم نے پاکستان چھوڑنے سے انکارکردیا۔ ان کا پورا خاندان ڈھاکہ میں تھا۔ وہ اپنے بہن بھائیوں کو پاکستان لے آئے کیونکہ پاکستان ان کے ایمان کا حصہ تھا۔
ایم ایم عالم صرف بہادر نہیں تھے بلکہ حق گو بھی تھے۔ سینئر افسروں کے منہ پر سچ کہنے سے بالکل نہیں ڈرتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں پاکستان ایئرفورس کے سربراہ ایئرمارشل ظفرچودھری 1965 کی جنگ کے ہیرو ایم ایم عالم سے بہت ناراض رہنے لگے۔ ایک دن ایم ایم عالم کو حکومت کا باغی قرار دے کر گرفتار کرلیا گیا اور ایئرفورس کے میس میں بند کردیا گیا۔ ان کا قصورصرف اتنا تھا کہ وہ بنگالی تھے اور ان پر الزام لگانا بہت آسان تھا۔ اس دن پاکستان ایئرفورس کے نوجوان افسروں نے اپنے ہیرو کی گرفتاری پر بہت احتجاج کیا لہٰذا ایم ایم عالم کو فوری طور پر رہا کردیا گیا۔ اس واقعے کی خبر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تک پہنچی تو انہوں نے انکوائری کرائی اور ظفر چودھری کو ہٹاکر ایئرمارشل ذوالفقار علی خان کو ایئرفورس کا سربراہ بنا دیا۔ کچھ عرصے کے بعد ایم ایم عالم ڈیپوٹیشن پرشام چلے گئے جہاں وہ شام کی فضائیہ کے افسروں کوتربیت دیتے رہے۔ واپس آئے توبھٹو حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور جنرل ضیاالحق اقتدار میں آگئے۔ جنرل ضیاالحق نے ایئرفورس میں میرٹ کی دھجیاں بکھیر دیں اور اپنے ذاتی دوستوں کو اہم عہدے بانٹنے لگے۔ ایک دن ایم ایم عالم نے جنرل ضیاالحق کے سامنے کھڑے ہو کرکہا کہ وہ غلط لوگوں کو آگے لا رہے ہیں۔ جنرل ضیاء نے جواب میں کہا کہ آخر وفاداری بھی کوئی چیزہوتی ہے۔ یہ سن کر ایم ایم عالم نے سب کے سامنے بلند آواز میں کہا کہ اصل وفاداری وہ ہوتی ہے جوکسی کی ذات کے ساتھ نہیں بلکہ قوم کے ساتھ ہوتی ہے۔
جنرل ضیا نے اپنی عادت کے مطابق ایم ایم عالم کو کوئی جواب نہیں دیا لیکن خاموشی سے ایم ایم عالم کی پروموشن روک دی گئی اور انہیں ایئرفورس سے ریٹائر کردیا گیا۔ وہ ہیرو جسے پاکستان ایئرفورس کا سربراہ بننا تھا اسے 1982میں ایئرفورس سے فارغ کردیا گیا۔ ایم ایم عالم سب کے لئے آواز اٹھاتے تھے لیکن جب ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔ ایم ایم عالم بھی خاموش رہے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ذاتی مفاد کے لئے پاکستان ایئرفورس کو بدنام کریں۔ انہوں نے تمام عمر شادی نہیں کی۔ اپنے بہن بھائیوں کو پالتے رہے۔ انہیں پڑھاتے رہے۔ ان کے ایک قریبی دوست کا کہنا ہے کہ ایم ایم عالم کو ایک دفعہ ایک افغان لڑکی سے محبت ہوگئی تھی لیکن انہوں نے شادی نہیں کی۔ ریٹائرمنٹ کے بعدخاموشی کے ساتھ افغانستان پر قابض روسی فوج کے خلاف مزاحمت کرنے والے مجاہدین کی مدد کرتے رہے۔اپنا گھر بھی نہ بناسکے۔ کچھ سال آفیسرز میس چکلالہ اور کچھ سال فیصل بیس کراچی میں گزارے۔ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پرہمیشہ خاموش رہے۔ 18مارچ 2013کو کراچی کے ایک ہسپتال میں خاموشی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے توپاکستانیوں کی بڑی اکثریت اپنے ہیرو کے ساتھ ناانصافیوں سے آگاہ نہ تھی۔ کسی نے سوچا ہی نہیں کہ عالمی ریکارڈہولڈرجنگی ہواباز پاکستان ایئرفورس میں ایئر وائس مارشل بھی نہ بن سکا، آخرکیوں…؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں