چھوٹا انسان بڑا امتحان…- اپریل 01, 2013

hamid-mir-columns

Hamid-Mir
وہ صرف ایک انسان نہیں بلکہ ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ اُس نے صرف اپنے آپ کو امتحان میں نہیں ڈالا بلکہ پوری قوم کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔ پوری قوم کو امتحان میں ڈالنے والے اس شخص کا نام جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف ہے۔ پرویز مشرف پاکستان کی تاریخ کا وہ منفرد فوجی ڈکٹیٹر ہے جس نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ آئین توڑا۔ پہلی مرتبہ آئین توڑنے پر اُسے عدلیہ اور پارلیمنٹ کی تائید مل گئی لیکن دوسری مرتبہ آئین توڑنے پر مشرف کو عدلیہ اور پارلیمنٹ کی طرف سے تائید و توثیق نہیں ملی۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اگست 2008ء میں سیاسی جماعتوں، وکلاء، میڈیا اور سول سوسائٹی کے دباؤ پر استعفیٰ دیا تھا اور گارڈ آف آنر لے کر لندن سدھار گیا۔ لندن میں موصوف کے طبلے اور ٹھمکوں نے کافی شہرت حاصل کی۔ پانچ سال تک لندن اور دبئی میں وقت گزار کر پرویز مشرف واپس پاکستان آ چکا ہے اور آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کیلئے اپنے کاغذات نامزدگی بھی جمع کروا چکا ہے۔ قانونی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا پرویز مشرف پر آئین کی شق 62اور 63 کا اطلاق نہیں ہوتا؟ سپریم کورٹ نے 31جولائی 2009ء کو اپنے تاریخی فیصلے میں مشرف کو آئین شکنی کا مرتکب قرار دیا تھا۔
مشرف نے 3نومبر 2007ء کو دوسری مرتبہ آئین توڑا تو وہ فوج کے سربراہ تھے اور بطور چیف آف دی آرمی اسٹاف انہوں نے حلف کی خلاف ورزی کی۔ کیا اپنے حلف کی خلاف ورزی کر کے آئین توڑنے والے کو ہم صادق اور امین قرار دے سکتے ہیں؟ اگر آئین شکنی جیسے جرم کا ارتکاب کرنے والے پر آئین کی دفعہ 62اور 63کا اطلاق نہیں ہوتا تو پھر ان دونوں دفعات کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کاغذات نامزدگی کا حصہ کیوں بنایا؟ پھر ان دونوں دفعات کو آئین میں شامل رکھنے کا کیا فائدہ؟ پرویز مشرف نے پاکستان واپسی کے بعد کہا کہ کہاں گیا وہ پاکستان جو میں پانچ سال پہلے چھوڑ کر گیا تھا؟ ماضی میں مشرف کی عنایات سے فیض یاب ہونے والے کچھ اینکر حضرات بھی دبے دبے الفاظ میں یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے پچھلے پانچ سال میں پاکستان کا جو حشر کیا ہے اُس کے بعد اُنہیں مشرف دور کی بہت یاد آتی ہے۔ قوم کو بے وقوف سمجھنے والے یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ این آر او پر دستخط کرنے والی عظیم المرتبت شخصیت یہی جناب پرویز مشرف تھے اور اسی این آر او کی برکت سے مشرف کی اتحادی جماعتوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل ہو کر پانچ سال تک اقتدار کے مزے لوٹے۔ پاکستان واپسی پر کراچی میں صرف چند سو افراد نے پرویز مشرف کا استقبال کیا لیکن بلوچ رہنما اختر مینگل کا کہنا ہے کہ رسی جل گئی مگر بل نہیں گیا۔ پرویز مشرف کی واپسی نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ سب سے بڑا سوال تو یہی ہے کہ کیا مشرف کی واپسی کسی سودے بازی کا نتیجہ ہے؟ واپسی کے بعد سے مشرف نے نواز شریف اور نواز شریف نے مشرف پر تنقید سے گریز کیوں کیا؟ ضروری نہیں کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف روزانہ بیان بازی کریں لیکن دونوں کے کچھ مشترکہ بیرونی دوستوں نے ان کے درمیان سیز فائر کی کوشش کی ہے۔ مجھ سے پرویز مشرف کے ایک غیرملکی خیرخواہ نے حال ہی میں پوچھا کہ اگر پرویز مشرف کے بدترین سیاسی مخالفین ان کے بارے میں خاموشی اختیار کر سکتے ہیں تو آپ کو خاموشی اختیار کرنے سے کیوں انکار ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میری مشرف سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں لیکن میں اُن کے بدترین سیاسی مخالفین کے ڈسپلن کا پابند نہیں میرا کام سوال اُٹھانا ہے میں سوال اُٹھاتا رہوں گا۔ میں نے پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے درمیان این آر او پر تنقید کی تھی یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی اور سیاسی جماعت خاموشی کے ساتھ مشرف سے ایک غیر اعلانیہ این آر او کر لے اور میں سوال نہ اُٹھاؤں؟
آج کل کئی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پرویز مشرف کی عقل پر پردہ ڈال دیا ہے اور وہ رسوا ہونے کیلئے پاکستان واپس لوٹ آیا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ درست ہو لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پرویز مشرف نے اکیلے آئین توڑا؟ کیا اُس نے شمسی ایئر بیس سمیت پاکستان کے دیگر فوجی اڈے اکیلے ہی امریکہ کے حوالے کر دیئے؟ کیا اُس نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اکیلے ہی مجبور کر دیا کہ وہ پاکستان ٹیلی ویژن کے کیمرے کے سامنے ایک ایسے الزام کو تسلیم کر لیں جس کا کوئی ٹھوس ثبوت آج تک کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا؟ کیا پرویز مشرف نے اکیلے ہی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو کراچی سے اغوا کر کے افغانستان اور افغانستان سے امریکہ پہنچا دیا؟ کیا پرویز مشرف نے اکیلے ہی امریکہ کو پاکستان پر ڈرون حملوں کی اجازت دی؟ کیا مشرف نے اکیلے ہی ہزاروں پاکستانیوں کو لاپتہ کر کے عدالتوں کو دھوکہ دیا؟ کیا مشرف نے اکیلے ہی اسلام آباد کی لال مسجد کے تنازعے کو سات ماہ تک لٹکائے رکھا اور سات ماہ کے بعد بمباری کر کے غازی عبدالرشید کی 80سالہ بوڑھی والدہ سمیت کئی بے گناہ افراد کو موت کی نیند سلا دیا؟ کیا مشرف نے اکیلے ہی پہلے ڈیرہ بگٹی میں نواب اکبر بگٹی کے گھر پر بمباری کی، اکیلے ہی اُنہیں پہاڑوں میں پناہ لینے پر مجبور کیا اور پھر اکیلے ہی اُنہیں شہید کر ڈالا؟ پرویز مشرف نے کوئی جرم اکیلے نہیں کیا۔ بطور آرمی چیف اُنہوں نے فوج کے ڈسپلن کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ اس ڈسپلن کی وجہ سے فوجی افسران اور جوان اُن کے احکامات ماننے کے پابند تھے لیکن ایک منتخب پارلیمنٹ بھی تو موجود تھی۔ ایک وزیر اعظم اور اس کی کابینہ بھی تو موجود تھی۔ مشرف حکومت کی کابینہ نے صدر کی غیر آئینی سرگرمیوں پر اعتراض کیوں نہ کیا؟ آج پرویز مشرف کوئی جرم تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ اکبر بگٹی کے قتل سے لے کر چیف جسٹس کی معزولی تک وہ ہر جرم کی ذمہ داری سیاسی حکومت پر ڈال رہا ہے اور ستم ظریفی دیکھئے کہ مشرف کے ساتھی انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے مسکراتے پھر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صرف مشرف کی عقل پر پردہ نہیں ڈالا بلکہ بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کی عقل پر پردہ بھی ڈال دیا ہے۔ ان کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے مشرف کو آئین شکن قرار دیا لیکن سیاسی قیادت نے بیرونی طاقتوں کے دباؤ پر آئین کی دفعہ 6کے تحت مشرف کا ٹرائل نہیں کیا۔ پھر انہیں طاقتوں کے دباؤ پر مشرف کے بارے میں پراسرار خاموشی اختیار کر لی اب مشرف کے ساتھیوں کو ٹکٹ بھی دیئے جا رہے ہیں۔ مشرف دور میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے سب سے بڑے وکیل خورشید محمود قصوری تحریک انصاف کا لیبل لگا کر ہمیں بے وقوف بنا رہے ہیں۔ مشرف کے منہ بولے بھائی امیر مقام، شمالی علاقہ جات اور چترال میں مشرف کی تصویریں بانٹنے والی ماروی میمن، مشرف کی پالیسیوں کا دفاع کرنے والے طارق عظیم اور لیاقت جتوئی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو چکے ہیں۔ حنا ربانی کھر اور حفیظ شیخ تو بہت پہلے پیپلز پارٹی میں آ گئے تھے اور محمد علی درانی کو فنکشنل لیگ میں پناہ مل گئی۔ مشرف کے ساتھی ہر بڑی جماعت میں نمایاں ہیں اور ہر جماعت تبدیلی کا نعرہ بھی لگا رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مشرف کی باقیات کو گلے لگانے والوں کی عقل پر بھی پردہ ڈال دیا گیا ہے۔
ہماری سیاسی قیادت اپنی مصلحتوں اور منافقت کی وجہ سے ایک آئین شکن ڈکٹیٹر کا احتساب کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ پرویز مشرف امتحان بن کر مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے سامنے آ کر کھڑا ہوا تو سب کی نظریں جھکی جھکی ہیں۔ اب اگلا امتحان فوج، عدلیہ اور میڈیا کا ہے۔ فوج کو بدنامی دینے والے مشرف کے بارے میں فوج کو غیر جانبدار رہنا ہے۔ آئین توڑنے والے جرنیل کا احتساب کرنا عدلیہ کی ذمہ داری ہے اور میڈیا کو بھی ثابت کرنا ہے کہ آئین شکن جرنیل کے ساتھ سیاستدان این آر او کر سکتے ہیں لیکن اہل صحافت کی کوئی مجبوری نہیں کیونکہ ہمیں اقتدار نہیں چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں