اے این پی، طالبان اور سیکولرازم…- اپریل 18, 2013

hamid-mir-columns

Hamid-Mir
یہ پرانے پشاورشہر کی ایک حویلی تھی۔ حویلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن اور حامی سرخ ٹوپیاں پہن کر ”زندہ ہے بلورزندہ ہے“ کے نعرے لگا رہے تھے۔ میں اس جگہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار ہارون بلور کی دعوت پر پہنچا تھا۔ ہارون بلور نے مجھے بتایا تھا کہ اے این پی کے لئے انتخابی مہم چلانا بہت مشکل ہوچکا ہے لیکن دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں۔ اگر طالبان قتل کرنا جانتے ہیں تو ہم مرنا جانتے ہیں۔ ان کے بم اور گولیاں ختم ہو جائیں گے لیکن ہمارے سینے ختم نہ ہوں گے۔ ہارون بلور کے والد بشیر بلور بھی یہی کہا کرتے تھے اورطالبان کو للکارتے للکارتے ایک دھماکے میں شہید ہوگئے۔ اب ہارون بھی اپنے والد کے راستے پر چل رہاہے۔اس نے کہا کہ ہم دھماکوں سے ڈرنے والے نہیں لیکن اپنے کارکنوں کے تحفظ کے لئے چار دیواری کے اندر کارنر میٹنگز کر رہے ہیں جبکہ ہمارے مخالفین شہر میں جگہ جگہ کھلے عام جلسے کرتے ہیں اور انہیں کوئی خطرہ نہیں۔ ہارون بلور نے کہا کہ ہم بھاگنے والے نہیں آپ خود پشاور آ کر دیکھ لیں کہ اے این پی میدان میں کھڑی ہے۔ میں پشاور کے حلقہ این اے ون کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے مختلف علاقوں میں گھومتا رہا۔ واقعی اے این پی میدان میں کھڑی ہے۔ میں ان رکشہ ڈرائیوروں کی ہمت پرحیران تھا جو اپنے رکشوں پر اے این پی کے سرخ پرچم لہرا کر موت کو دعوت دے رہے تھے۔ حلقہ این اے ون میں شامل اکثر بازاروں میں تاجروں نے اپنی دکانوں پر اے این پی کے پرچم لگارکھے ہیں۔ پشاور شہر میں لوگوں کو بہت سے مسائل کاسامنا ہے۔ اے این پی پانچ سال تک اقتدار میں رہی اور لوگ کہتے ہیں کہ پانچ سال میں شہر کے کئی مسائل حل نہیں ہوئے لیکن پورا شہر گواہ ہے کہ ان پانچ سالوں میں اے این پی ڈٹ کربم دھماکوں کا مقابلہ کرتی رہی اور اسی لئے آج بھی شہر کے لوگ اے این پی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ہارون بلور نے مجھے اے این پی کی کارنرمیٹنگ میں شام ساڑھے چھ بجے بلایا تھا۔ جب میں اندرون پشاور کی تنگ سڑکوں سے ہوتا ہوا شاہین حویلی پہنچا تو اے این پی کے کارکنوں میں خوف کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ کچھ ہی دیر میں حاجی غلام احمد بلور تشریف لے آئے۔ مغرب کی اذان ہوچکی تھی۔ حاجی صاحب نے ایک کمرے میں نماز ِ مغرب ادا کی۔ جب وہ نماز ادا کررہے تھے تو مجھے بشیربلور یاد آگئے۔ بشیربلور اکثر کہاکرتے تھے کہ میرے بھائی غلام احمد بلور کو اپنے جوان بیٹے شبیربلور کے قتل کا سانحہ دیکھنا پڑا لیکن میرا بھائی بڑے حوصلے والا ہے کبھی اپنا دکھ زبان پر نہیں لاتا۔ پھر اسی غلام احمد بلور کوبشیر بلور کی موت کاسانحہ بھی دیکھنا پڑا۔ بشیر بلور بھی اپنے بھائی غلام احمد بلور کی طرح پانچ وقت کے نمازی تھے لیکن طالبان نے انہیں شہید کردیا۔ اب میں غلام احمد بلور کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکا ہوا دیکھ رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا طالبان سے کیسے ڈر سکتا ہے؟
حاجی غلام احمد بلور نے نماز ِ مغرب کے بعد لمبی دعا کی۔ اس دوران ہارون بلور بھی پہنچ گئے۔ انہوں نے تاخیر کی معذرت کرتے ہوئے کہا کہ راستے میں نماز ِ مغرب کی ادائیگی کے باعث دیر ہوگئی۔ اے این پی کے کارکنوں کی اس کارنر میٹنگ کا آنکھوں دیکھا حال کیا بتاؤں۔ بس اتنا کہوں گا کہ سب مرنے کے لئے تیارتھے اورمجھے پکڑ پکڑ کر کہہ رہے تھے کہ گواہ رہنا ہم پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم پاکستان کی خاطر مارے جائیں گے لیکن دشمن کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ یہاں سے میں نمک منڈی، قصہ خوانی بازار اور دیگر علاقوں سے ہوتا ہوا گل بہار پہنچا جہاں جماعت ِ اسلامی اور تحریک ِ انصاف کے اجتماعات ہو رہے تھے۔ عام تاثر یہ ہے کہ جماعت ِ اسلامی اور تحریک ِ انصاف کو کوئی خطرہ نہیں لیکن ان جماعتوں کے اجتماعات میں بھی حفاظتی انتظامات انتہائی سخت تھے۔ خضدار میں مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صوبائی صدر میر ثناء اللہ زہری کے قافلے پرحملے کے بعد مسلم لیگی کارکنوں میں بھی شدید اضطراب ہے۔ پیپلزپارٹی 2008 میں اپنی قائد محترمہ بینظیر بھٹو کی قربانی دے چکی ہے۔ اس قربانی نے پیپلزپارٹی کو اقتدار دلا دیا۔ پشاور میں اے این پی کے سیاسی مخالفوں کا کہنا ہے کہ طالبان نے اے این پی ، ایم کیو ایم اورپیپلزپارٹی پر حملوں کا اعلان کرکے ان تینوں جماعتوں کو مظلوم بنا دیا ہے۔
جب سے اے این پی والوں پر حملے شروع ہوئے ہیں اے این پی کے بہت سے ناراض کارکن تمام شکوے شکایتیں بھلا کر اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ 11مئی کے انتخابات میں کون جیتے گا لیکن طالبان کے حملوں نے ان انتخابات میں اے این پی کی پوزیشن کو خاصا بہتر بنا دیاہے۔ اے این پی ایک سیکولر اورلبرل جماعت ہے لیکن اسفندیار ولی سے لے کر ہارون بلور تک اس جماعت کے اکثرقائدین پکے نمازی ہیں۔شاید ان کے ایمان کی طاقت نے انہیں وہ ہمت و حوصلہ دیاہے جو ہمیں روایتی سیکولر اور لبرل عناصر میں نظر نہیں آتا۔ اے این پی والے کہتے ہیں کہ سیکولرازم کا مطلب لادینیت نہیں ہے۔ سیکولر لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی دنیا کے ہیں۔ قرون وسطیٰ میں رومن کیتھولک پادری دو گروہوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ایک گروہ ایسے پادریوں کا تھا جو چرچ کے ضابطوں کے تحت خانقاہوں میں رہتے تھے۔ دوسرے وہ پادری تھے جو عام شہریوں کی سی زندگی گزارتے تھے۔ چرچ نے دوسری قسم کے پادریوں کو سیکولر قرار دے دیااور ان تمام اداروں کو بھی سیکولر کہہ دیا جو چرچ کے ماتحت نہ تھے۔ یورپ میں چرچ اورسیکولرازم کی کشمکش کی وجہ یہ تھی کہ چرچ کے پاس بڑی بڑی جاگیریں ہوا کرتی تھیں۔ چرچ کو ٹیکس بھی ادا کیا جاتا تھا لہٰذاکچھ یورپی ممالک میں چرچ نے ریاست کی شکل اختیار کرلی۔ کچھ ممالک میں چرچ اور ریاست کی کشمکش شروع ہوگئی۔ فرانس، جرمنی، سپین اور برطانیہ کے بادشاہوں نے اپنی حکومتیں چرچ کی مرضی کے مطابق چلانے سے انکار کردیا لہٰذا ان حکومتوں کو سیکولر قرار دیا گیا۔ ترکی میں سلطان عبدالحمید کے خلاف نوجوان ترکوں کی بغاوت کو بھی سیکولر کہا گیا حالانکہ علامہ اقبا ل کے نزدیک یہ بغاوت اسلام دشمنی نہیں تھی۔ اقبال کے نظریات بڑے واضح ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ”جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی“ لیکن وہ سیکولرازم کو لادینیت نہیں کہتے تھے۔ سیکولرازم کو بدنام کرنے میں سیکولرازم کے علمبرداروں کاکردار زیادہ ہے جنہوں نے اپنی دین سے بیزاری کو سیکولرازم بنا کرپیش کیا۔ اے این پی کا سیکولر ازم وہی ہے جو ہمیں ترکی میں نظر آتا ہے جہاں مذہب کوریاستی معاملات پر حاوی نہیں کیا گیا لیکن ترک پہلے بھی مسلمان تھے اور اب بھی مسلمان ہیں۔ بہرحال یہ طے ہے کہ اے این پی کے نظریاتی قائد خان عبدالغفار خان نے قائداعظم سے سیاسی اختلافات کے باوجود 1948 میں پاکستان سے وفاداری کاحلف اٹھایا اور آج بھی اے این پی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی وفادار ہے۔
اے این پی کے دشمن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے۔ 2009 میں جب اے این پی نے طالبان سے مذاکرات شروع کئے تو طالبان نے اے این پی والوں سے کہا کہ تم بھی پختون ہو اور ہم بھی پختون ہیں۔ تم ہمیں پنجاب میں حملوں کے لئے راستہ دو ہم تم پر حملے بند کردیں گے۔ اے این پی نے یہ ڈیل کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد پنجاب میں حملے کم ہوگئے اور خیبرپختونخوا میں بڑھ گئے۔ میں یہی باتیں سوچتا ہوا پشاور سے واپس روانہ ہوا تو پتہ چلا کہ اے این پی کی کارنر میٹنگ کے قریب خودکش حملہ ہو گیاہے۔ حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرلی۔ کسی کو کوئی شک نہیں رہنا چاہئے۔ آج اے این پی نشانہ ہے کل دوسرے ہو ں گے۔ 11مئی کو انتخابات ملتوی کرانے کی خواہشیں رکھنے والے پاکستان کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ ہمیں متحدہو کر دشمن کو شکست دینی ہے۔ انشاء اللہ دشمن شکست کھائے گا۔ 11مئی پاکستان کی فتح کا دن ہوگا۔ طالبان کے حملوں سے اے این پی اور پاکستان کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط ہو رہاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں